یکم فروری ۱۹۰۵ء؁ بوقت ظہر دو الہامات اور ایک رؤیا ظہر کے وقت حضورؑ تشریف لائے تو ذیل کے الہامات و رؤیا سنائے : ۱۔ انی لاجد ریح یوسف لو لا ان تفندون ۲۔ انی مع الروح معک ومع اھلک رؤیا ایک کاغذ دکھایا گیا جس میں کچھ سطور فارسی خط میں ہیں اور سب انگریزی میں لکھا ہوا ہے۔مطلب جن کا یہ سمجھ میں آیا کہ جس قدر روپیہ نکلتا ہے سب دیدیا جاوے گا۔ اس کے بعد سردی کی شدت کا ذکر رہا کہ رات کو برف جم گئی اور اکثر لڑکوں نے اس سے قلفیاں بنا کر کھائیں جس سے اکثر بیمار ہو گئے ہیں۔ اس لیے آپ نے فرمایا کہ : اس کا استعمال اس موسم میں بہت مضر ہے برکت چاہنا ایک شخص نے بیعت کی اور درخواست کی کہ تبرکاً مجھے کچھ پڑھایا جاوے۔جسے میں پڑھتا رہا کروں۔ حضور ؑ نے اپنی زبان مبارک سے اُسے سورۃ الحمد ساری پڑھادی۔؎ٰ ۸؍فروری ۱۹۰۵ء؁ بوقت ظہر شرک سے پرہیز ظہر کے وقت حضورؑ تشریف لائے تو آپ کے ایک خادم آمدہ از کشمیر نے سر بسود ہو کر خدا تعالیٰ کے کلام اسجدو الادم کو اس کے ظاہری الفاظ پر پورا کرنا چاہا۔ اور نہایت گر یہ وزاری سے اظہارِ محبت کیا۔ مگر حضور ؑ نے اسے اس حرکت سے منع فرمایا اور کہا کہ :