میری زباندانی کی قابلیت سر دست نامکمل ہے بڑی دل چسپی سے پڑھا ہے۔ہمارا تعلق ایک چھوٹے سے گروہ سے ہے جس نے کہ یسوع کے خدائی کے خیال کو استعفیٰ دیدیا ہے اور اسے صرف ایک ہادی خیال کرتا ہے اور اگر چہ یہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔لیکن بحمد اﷲ کہ ترقی کر رہا ہے جو خیال ہارا یسوع کی نسبت ہے۔وہی زردشت۔بدھ ۔محمد (دائمی برکت اور رحمت خد اکی اس پر نازل ہو) کی نسبت ہے۔ہم ان گستاخ پادریوں کو کسی قسم کی مدد نہیں دیتے جو کہ لوگوں کو عیسائی بنانے کے لیے بھیجے جاتے ہیں؛ حالانکہ ان لوگوں کا مذہب پادریوں کے مذہب سے بہتر نہیں تو اُن ہی جیسا ضرور ہے۔ پرائمری جو کہ میں رسال کروں گا۔اگر آپ اس کے جواب میں مجھے کچھ زیادہ معلومات اپنے نئے مسیح کی نسبت اور خصوصیت سے کشمیر میں مسیح کی قبر کے ثبوت کی نسبت ارسال کریں گے تو میں بہت ہی مشکور رہوں گا۔ حضرت اقدس نے اس پر فرمایا کہ : دراصل اب عیسویت سے دست برداری دنای میں شروع ہو گئی ہے اور اس مذہب کو جلا دینے والی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ آگ کا دستور ہے کہ وہ اول ذرا سے شروع ہو کر پھر آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے۔ یہی حال اب عیسائیت کا ہوگا۔؎ٰ ۲۸؍جنوری ۱۹۰۵ء؁ حضرت شہزادہ عبد اللطیف کے مریدین حضور ؑ فجر کے وقت تشریف لائے تو چند ایک احباب نے شرف بیعت حاصل کیا۔بعد ازاں حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب شہید ؑ کی جماعتِ مریدین کا تذکرہ ہوتا رہا کہ اب بعض لوگ ان میں سے آکر بیعت کرتے جاتے ہیں۔اس پر حضور ؑ نے اظہارِ مسرت فرمایا کیونکہ اس طریق سے ان کے وحشیانہ خیالات کی خود بخود اصلاح ہو رہی ہے۔ ۲؎