علالتِ طبع کا حال استفسار فرماتے ہوئے فرمایا کہ : اگر دودھ ہضم ہونے لگ جاوے تو بخار اُس سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔؎ٰ یکم جنوری ۱۹۰۵ء؁ ایڈیٹر البد نے ایک خاکروب کاتب کی درخواست پیش کی کہ اس کا مذہب بھی خاکروبوں کا ہی ہے مگر فن کتابت سے واقف ہے اور کارخانہ البدرؔ میں آنا چاہتا ہے چونکہ میری طبیعت کراہت کرتی ہے اس لیے حضور سے مشورتاً پوچھتا ہوں۔ آپ نے تبسم فرما کر فرمایا کہ : کہ بات تو واقعی مکروہ معلوم ہوتی ہے ۲؎ ۶؍جنوری ۱۹۰۵ء؁ اپنے محبّین کی صحت یابی کے لیے کثرت سے دعا فرمانا حضرت حکیم نور الدین صاحب کی طبیعت بہت علیل رہی چنانچہ اسی وجہ سے آپ کو درسِ قرآن ملتوی رکھنا پڑا۔ حکیم صاحب کی طبیعت کی ناسازی دیکھ کر حضرت مسیح موعود ؑ نے آپ کی صحت کے لیے کثرت سے دعا شروع کی تو ۶؍جنوری کو آپ نے تشریف لا کر فرمایا کہ میں دعا کر رہا تھا کہ یہ الہام ہوا: ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبد نا فا تو ابشفاء من مثلہ یہ الہام ایک بار حضور کو اول بھی ہوا تھا۔ ۳؎