ہے کہ جو حق کوشش کا اس کے ذمہ ہے اسے بجالائے۔ یہ نہ کرے کہ اگر پانی ۲۰ ہاتھ نیچے کھودنے سے نکلتا ہے تو وہ صرف دو ہاتھ کھود کر ہمت ہاردے۔ہر ایک کام میں کامیابی کی یہی جڑ ہے کہ ہمت نہ ہارے۔پھر اس اُمت کے لیے تو اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر کوئی پورے طور سے دعا و تزکیۂ نفس سے کام لے گا تو سب وعدے قرآن شریف کے اس کے ساتھ پورے ہو کر رہیں گے۔ہاں جو خلاف کرے گا وہ محروم رہے گا، کیونکہ اس کی ذات غیور ہے۔ اس سے اپنی طرف آنے کی راہ ضرور رکھی ہے۔ لیکن اس کے دروازے تنگ بنائے ہیں۔ پہنچتا وہی ہے جو تلخیوں کا شربت پی لیوے۔ لوگ دنیا کی فکر میں درد برداشت کرتے ہیں حتیٰ کہ بعض اسی میں ہلاک ہو جاتے ہیں لیکن اﷲ تعالیٰ کے لیے ایک کانتٹے کی درد بھی برداشت کرنا پسند نہیں کرتے جبتک اس کی طرف سے صدق اور صبر اور وفاداری کے آثار ظاہر نہ ہوں تو اُدھر سے رحمت کے آثار کیسے ظاہر ہوں۔ صدق دکھلائو ابراہیم علیہ السلام نے صدق دکھلایا تو اُن کو ابو الانبیاء بنادیا۔ میرے کہنے کا مدعا یہ ہے کہ دن بہت سخت ہیں اور کسی نے اب تک نہیں سمجھے تو آئندہ سمجھ لیوے۔ مجھے الہام ہوا تھا۔ عفت الدیار محلھا و مقامھا یہ ایک خطرناک کلمہ ہے جس میں طاعون کی خبر دی گئی ہے کہ انسان کے لیے کوئی مفر اور کوئی جائے پناہ نہ رہے گی۔ اس لیے میں تم سب کو گواہ رکھتا ہوں کہ اگر کوئی سچی تبدیلی نہ کرے گا تو وہ ہرگز اس لائق نہ ہوگا کہ مجھ کو دعا کے لیے لکھے۔ جو لوگ خدا کے بتلائے ہوئے صراط مستقیم پر چلیں گے وہی محفوظ رہیں گے۔ خدا کا وعدہ ایسے ہی لوگوں کی حفاظت کا ہے جو سچی تبدیلی اپنے اندر کرتے ہیں۔ مطلق بیعت انسان کے کیا کام آسکتی ہے؟ پورا نسخہ جبتک نہ پئے تو مریض کو فائدہ نہیں ہوتا کرتا۔ اس لیے پوری تبدیلی کرنی چاہیے۔ جہانتک ہو سکے دعا کرو اور اﷲ تعالیٰ سے کہو کہ وہ تم کو ہر ایک قسم کی توفیق عطا کرے۔؎ٰ ۳۱؍دسمبر ۱۹۰۴ء؁ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جناب مفتی محمد صادق صاحب کی