گا جو کہ اپنے قلب کو پاکیزہ کرتا ہے اور جو اُسے پاک نہ کرے گا بلکہ خداک میں ملا دیگا یعنی سفلی خواہشات کا اُسے مخزن بنا رکھے گا۔وہ نامراد رہے گا۔اس بات سے ہمیں انکار نہیں ہے کہ خدا کی طرف آنے کے لیے ہزار ہا روکیں ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتیں تو آج صفحہ دنیا پر نہ کوئی ہندو ہوتا نہ عیسائی۔ سب کے سب مسلمان نظر آتے۔ لیکن ان روکوں کو دور کرنا بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔ وہی توفیق عطا کرے تو انسان نیک و بد میں تمیز کر سکتا ہے۔اس لیے آخر کار بات پھر اسی پر آٹھہرتی ہے کہ انسان اسی کی طرف رجوع کرے تا کہ قوت اور طاقت دیوے۔ کوشش کی برکت دنیا میں جس قدر مشورے نفس پرستی اور شہوت پرستی وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ان سب کا ماخذ نفس امارہ ہی ہے لیکن اگر انسان کوشش کرے تو اسی امارہ سے پھر وہ لوامہ بن جاتا ہے، کیونکہ کوشش میں ایک برکت ہوتی ہے اور اس سے بھی بہت کچھ تغیرات ہو جاتے ہیں۔پہلو انوں کو دیکھو کہ وہ ورزش اور محنت سے بدن کو کیا کچھ بنا لیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ محنت اور کوشش سے نفس کی اصلاح نہ ہوسکے۔نفس امارہ کی مثال آگ کی ہے جو کہ مشتعل ہو کر ایک جوش طبیعت میں پیدا کرتا ہے جس سے انسان حدِ اعتدال سے گذر جاتا ہے۔ لیکن جیسے پانی آگ سے گرم ہو کر آگ کی مثال تو ہو جاتا ہے اور جو کام آگ سے لیتے ہیں وہ اس سے بھی لے لیتے ہیں مگر جب اسی پانی کو آگ کے اوپر گرایا جائے تو وہ اس آگ کو بجھادیتا ہے کیونکہ ذاتی صفت اس کی آگ کو بجھانا ہے۔وہ وہی رہے گی۔ ایسے ہی اگر انسان کی روح نفس امارہ کی آگ سے خواہ کتنی ہی گرم کیوں نہ ہو مگر جب وہ نفس سے مقابلہ کرے گی اور اس کے اوپر گرے گی تو اسے مغلوب کرکے چھوڑے گی۔ بات صرف اتنی ہے کہ خدا کو ہر ایک بات پر قادر مطلق جانا جاوے اور کسی قسم کی بدظنی اس پر نہ ی جاوے۔ جو بدظنی کرتا ہے وہی کافر ہوتا ہے۔مومن کی صفات میں سے ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کو غایت درجہ قادر جانے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بہت نیکیاں کرنے سے انسان ولی بنتا ہے۔یہ نادانی ہے۔ مومن کو تو خدا نے اول ہی ولی بنایا ہے جیسے کہ فرمایا ہے اﷲ ولی الذین امنوا (البقرۃ : ۲۵۸) اﷲ تعالیٰ کی قدرت کے ہزاروں عجائبات ہیں اور انہیں پر کھلتے ہیں جو دل کے دروازے کھول کر رکھتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ بخیل نہیں ہے، لیکن اگر کوئی شخص مکان کا دروازہ خود ہی نہیں کھولتا تو پھر روشنی کیسے اندر آوے ۔پس جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف رجوع۱کرے گا تو اﷲ تعالیٰ بھی اس کی طرف رجوع کرے گا۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ جہانتک بس چل سکے وہ اپنی طرف سے کوتاہی نہ کرے۔پھر جب اس کی کوشش اس کے اپنے انتہائی نقطہ پر پہنچے گی تو وہ خدا کے نور کو دیکھ لے گا۔ والذین جاھدو افینا لنھد ینہم سبلنا (العنکبوت : ۷۰) میں اس کی طرف اشارہ