لو لا دعاوکم (الفرقان : ۷۸)
کہ اگر اس کی طرف رجوع رکھو گے تو تمہارا ہی اس میں فائدہ ہوگا۔انسان جس قدر اپنے وجود کو مفید اور کار آمد ثابت کرے گا اسی قدر اس کے انعامات کو حاصل کرے گا۔دیکھو کوئی بیل کسی زمیندار کا کتنا ہی پیارا کیوں نہ ہو مگر جب وہ اس کے کسی کام بھی نہ آوے گا۔نہ گاڑی میں جُتے گا نہ زراعت کرے گا نہ کنوئیں میں لگے گا تو آخر سوائے ذبح کے اور کسی کام نہ آوے گا۔ایک نہ ایک دن مالک اُسے قصاب کے حوالے کر دے گا۔ ایسے ہی جو انسان خد اکی راہ میں مفید ثابت نہ ہو گا تو خدا اس کی حفاظت کا ہرگز ذمہ ار نہ ہوگا۔ ایک پھل اور سایہ دار درخت کی طرح اپنے وجود کو بنانا چاہیے تا کہ مالک بھی خبر گیری کرتا رہے۔ لیکن اگر اس درخت کی مانند ہو گا کہ جو نہ پھل لاتا ہے اور نہ پتے رکھتا ہے کہ لوگ سایہ میں آ بیٹھیں تو سوائے اس کے کہ کاٹا جاوے اور آگ میں ڈالا جاوے اور کس کام آسکتا ہے۔
خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی معرفت اور قرب حاصل کرے۔
ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریات : ۵۷)
جو اس اصل غرض کو مد نظر نہیں رکھتا اور رات دن دنیا کے حصول کی فکر میں ڈوبا ہاو یہ کہ فلاں زمین خرید لوں۔فلاں مکان بنالوں۔فلاں جائداد پر قبضہ ہو جاوے۔ تو ایسے شخص سے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کچھ دن مہلت دے کر واپس بلالے اور کیا سلوک کیا جاوے۔
خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کی تڑپ
انسان کے دل مٰں خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہیے جس کی وجہ سے اس کے نزدیک وہ ایک قابل قدر شئے ہو جاوے گا۔ اگر یہ درد اس کے دل میں نہیں ہے اور صرف دنیا اور اس کے مافیہا کہ ہی درد ہے تو آخر تھوڑی سی مہلت پاکر وہ ہلاک ہو جاوے گا۔خدا تعالیٰ مہلت اس لیے دیت ہے کہ وہ حلیم ہے لیکن جو اس کے حلم سے خود ہی فائدہ نہ اُٹھاوے تو اُسے وہ کیا کرے۔پس انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ وہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور تعلق بنائے رکھے۔ سب عبادتوں کا مرکز دل ہے۔ اگر عبادت تو بجالاتا ہے مگر دل خدا کی طرف رجوع نہیں ہے تو عبادت کیا کام آوے گی۔ اس لیے دل کا رجوع تام اس کی طرف ہونا ضروری ہے۔اب دیکھو کہ ہزاروں مساجد ہیں۔ مگر سوائے اس کے کہ ان مٰں رسمی عبادت ہو اور کیا ہے؟ ایسے ہی آنحضرت ﷺ کے وقت یہودیوں کی حالت تھی کہ رسمھ اور عادت کے طور پر عبادت کرتے تھے اور دل کا حقیقی میلان جو کہ عبادت کی روح ہے ہرگز نہ تھا۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے ان پر لعنت کی۔پس اس وقت بھی جو لوگ پاکیز گی قلب کی فکر نہیں کرتے تو اگر رسم و عادت کے طور پر وہ سینکڑوں ڑکریں مارتے ہیں ان کو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔اعمال کے باغ کی طرطبزی پاکیزگی قلب سے ہوتی ہے اسی لیے اﷲ تعالیٰ فرمات ہے
قد افلح من زکھا وقد خاب من دسھا (الشمن : ۱۰، ۱۱)
کہ وہی بامراد ہو