خدا تعالیٰ بڑا رحیم کریم ہے اور اس کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہے کہ تم دُکھ پائو۔لیکن خوب یاد رکھو کہ جو اس سے عمداً دوری اختیار کرتا ہے اس پر اس کا قہر ضرور ہوتا ہے۔عادت اﷲ اسی طرح سے چلی آتی ہے۔نوحؑ کے زمانہ کو دیکھو اور لوطؑ کے زمانہ کو دیکھو موسیٰ ؑ کے زمانہ کو دیکھو اور پھر آنحضرت ﷺ کے زمانہ کو دیکھو کہ اس وقت جن لوگوں نے عمداً خدا سے بعد اختیار کیا ان کا کیا حال ہوا۔ ان لمبی آرزوئوں نے انسان کو ہلاک کر دیا ہے۔اﷲ تعالیٰ بھی فرماتا ہے
الھکم التکاثرو حتی زرتم المقابر (التکاثر : ۲، ۳)
کہ اے لوگو جو تم خدا سے غافل ہو۔دنای طلبی نے تم کو غافل کر دیا ہے یہانتک کہ تم قبروں میں داخل ہو جاتے ہو مگر غفلت سے باز نہیں آتے۔
کلا سوف تعلمون (التکاثر :۴)
مگر اس غلطی کا تم کو عنقریب علم ہو جائے گا۔
ثم کلا سوف تعلمون (التکاثر : ۵)
پھر تم کو اطلاع دی جاتی ہے۔کہ عنقریب تم کو علم ہو جاوے گا کہ جن خواہشات کے پیچھے تم پڑے ہو وہ ہر گز تمہارے کام نہ آویں گی اور حسرت کا موجب ہوں گی۔
کلا لو تعلمون علم الیقین (التکاثر : ۶)
اگر تم کو یقینی علم حاصل ہو جاوے تو تم علم کے ذریعہ سے سوچکر اپنے جہنم کو دیکھ لو اور تم کو پتہ لگ جاوے کہ تمہاری زندگی جہنمی زندگی ہے اور جن خیالات میں تم رات دن لگے ہوئے ہو وہ بالکل ناکارہ ہیں۔میں ہر چند کوشش کرتا ہوں کہ کسی طرح یہ باتیں لوگوں کے دل نشین ہو جاویں مگر آخر کار یہی کہنا پڑتا ہے کہ اپنے اختیار میں کچھ نہیں ہے جبتک خدا تعالیٰ خود ایک واعظ دل میں نہ پیدا کرے، تب تک فائدہ نہیں ہوتا۔جب انسان کی سعادت اور ہدایت کے دن آتے ہیں تو دل کے اندر ایک واعظ خود پیدا ہو جاتا ہے۔اور اس وقت اس کے دل کو ایسے کان مل جاتے ہیں کہ وہ دوسرے کی بات کو سنتا ہے۔راتوں کو اور دنوں کو خوب سوچکر دیکھو تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انسان بہت ہی بے بنیاد شئے ہے اور اس کے وجود کی کوئی کل بھی اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ایک آنکھ ہی پر نظر کرو کہ کس قدر باریک عضو ہے اگر ایک ذرا پتھر آلگے تو فوراً نابینا ہو جاوے۔پھر اگر یہ خدا کی نعمت نہیں ہے، تو کیا ہے۔ کیا کسی نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے کہ خدا اُسے ضرور بینا ہی رکھے گا اور اسی پر سب قویٰ کا قیاس کرو کہ اگر آج کسی میں فرق آجاوے تو انسان کی کیا پیش چل سکتی ہے۔غرضکہ ہر آن اور پل میں اس کی طرف رجوع کی ضرورت ہے اور مومن کا گذارہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ جبتک اس کا دھیان ہر وقت اس کی طرف لگانہ رہے۔اگر کوئی ان باتوں پر غور نہیں کرتا اور ایک دینی نظر سے اُن کو وقعت نہیں دیتا تو وہ اپنے دنیوی معاملات پر ہی نظر ڈال کر دیکھے کہ کیا خدا کی تائید اور فضل کے سوا کوئی کام اسکا چل سکتا ہے؟ اور کوئی منفعت دنیا کی وہ حاصل کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ دین ہو یا دنیا ہر ایک امر میں اُسے خدا کی ذات کی بڑی ضرورت ہے اور ہر وقت اس کی طرف احتیاج لگی ہوئی ہے۔جو اس کا منکر ہے سخت غلطی پر ہے۔خدا تعالیٰ کو تو اس بات کی مطلق پرواہ نہیں ہے کہ تم اس کی طرف میلان رکھو یا نہ۔ وہ فرماتا ہے۔
قل ما یعبو ا بکم ربی