۳۰؍دسمبر ۱۹۰۴ء
تقریر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
جو آپ نے بعد نماز جمعہ مسجدِ اقصیٰ میں فرمائی
چونکہ خاکسار ایڈیٹر کچھ دیر سے پہنچا تھا اس لیے جس قدر ضبط ہو سکا وہ ہدیہ ناظرین ہے۔
سلسلہ تقریر سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انقطاعِ دنیا اور حصول قرب الی اﷲ کے متعلق مضون
تھا۔ اور وہ تقریر یہ ہے:
اﷲ تعالیٰ کو اپنا نصب العین بنائیں
انسان کو چاہیے کہ حسنات کا پلڑا بھاری رکھے ۔مگر جہانتک دیکھا جاتا ہے اس کی مصروفیت اس قدر دنیا میں ہے کہ یہ پلڑا بھاری ہوتا نظر نہیں آتا۔رات دن اسی فکر میں ہے کہ وہ کام دنای کہ ہو جاوے۔فلانی زمین مل جاوے۔فلاں مکان بن جاوے؛ حالانکہ اُسے چاہیے کہ انکار میں بھی دین کا پلڑا دنای کے پلڑے سے بھاری رکھے۔اگر کوئی شخص رات دن نماز روزہ میں مصروف ہے تو یہ بھی اس کے کام ہرگز نہیں آسکتا۔جب تک کہ خدا کو اس نے مقدم نہیں رکھا ہوا۔ہر بات اور فعل میں اﷲ تعالیٰ کو نصب العین بنانا چاہیے؛ ورنہ خدا کی قبولیت کے لائق ہرگز نہ ٹھہرے گا۔ دنیا کا ایک بت ہوتا ہے جو کہ ہر وقت انسان کی بغل میں ہوتا ہے۔اگر وہ مقابلہ اور مواز نہ کر کے دیکھے گا تو اُسے معلوم ہوگا کہ طرح طرح کی نمائش اس نے دنای کے لیے بنا رکھی ہے اور دین کا پہلو بہت کمزور ہے؛ حالانکہ عمر کا اعتبار نہیں اور نہ علم ہے کہ اس نے ایک پل کے بعد زندہ بھی رہنا ہے کہ نہیں۔شیخ سعدی نے کیا عمدہ فرمایا ہے ؎
مکن تکیہ بر عمر نا پائدار
اس وقت جس قدر لوگ کھڑے ہیں کون کہہ سکتا ہے کہ ایک سال تک میں ضرور زندہ رہوں گا لیکن اگر خدا کی طرف سے علم ہو جاوے کہ اب زندگی ختم ہے تو ابھی سب ارادے باطل ہو جاتے ہیں۔پس خوب یاد رکھو کہ مومن کو دنیا کا بندہ نہ ہونا چاہیے۔ہمیشہ اس امر میں کوشاں رہنا چاہیے کہ کوئی بھلائی اس کے ہاتھ سے ہو جاوے۔