انسان متقی ہوتا جاتا ہے اسی قدر وہ کسی کی نسبت سزا اور ایذا کو پسند نہین کرتا۔مسلمان کبھی کینہ ور نہیں ہوسکتا۔ہم خود دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے کوئی دُکھ اور تکلیف جو وہ پہنچاسکتے تھے اُنہوں نے پہنچایا ہے،لیکن پھر بھی ان کی ہزاروں خطائیں بخشنے کو اب بھی تیار ہیں۔
جماعت کو خاص نصیحت
پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو۔یاد رکھو کہ تم ہر شخص سے خاوہ وہ کسی مذہب کا ہو، ہمددی کرو اور بلا تمیز ہر ایک سے نیکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے۔
ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما و اسیرا (الدھر : ۹)
وہ اسیر اور قیدی جو آتے تھے اکثر کفار ہی ہوتے تھے۔اب دیکھ لو کہ اسلام کی ہمدردی کی انتہا کیا ہے۔میری رائے میں کامل اخالقی تعلیم بجز اسلام کے اور کسی کو نصیب ہی نہیں ہوئی۔مجھے صحت ہو جاوے تو میں اخلاقی تعلیم پر یاک مستقل رسالہ لکھوں گا کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جو کچھ میر امنشا ہے وہ ظاہر جو جاوے اور وہ میری جماعت کے لیے ایک کامل تعلیم ہو اور ابتغاء مرضات اﷲ کی راہیں اس میں دکھائی جائیں۔ مجھے بہت ہی رنج ہوتا ہے جب میں آئے دن یہ دیکھتا اور سنتا ہوں کہ کسی سے یہ سرزد ہوا اور کسی سے وہ۔میری طبیعت ان باتوں سے خوش نہیں ہوتی۔میں جماعت کو ابھی اس بچہ کی طرح پاتا ہوں جو دو قدم اُٹھاتا ہے تو چار قدم گرتا ہے، لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس جماعت کو کامل کردے گا۔اس لیے تم بھی کوشش، تدبیر، مجاہدہ اور دعائوں میں لگے رہو کہ خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے کیونکہ اس کے فضل کے بغیر کچھ بنتا ہی نہیں۔ جب اس کا فضل ہوتا ہے تو وہ ساری راہیں کھول دیتا ہے۔؎ٰ