یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ نیکی کو بہت پسند کرتا ہے اور و ہ چاہتا ہے کہ اس کی مخلوق سے ہمدردی کی جاوے۔اگر وہ بدی کو پسند کرتا تو بدی کی تاکید کرتا مگر اﷲ تعالیٰ کی شن اس سے پاک ہے (سبحانہ تعالیٰ شانہٗ) آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم رحم مجسم تھے بعض لوگ جن کو حق کے ساتھ دشمنی ہوتی ہے۔جب ایسی تعلیم سنتے ہیں تو اور کچھ نہیں تو یہی اعتراض کر دیتے ہیں ہ اسلام میں ہمدردی اگر ہوتی تو آنحضرت ﷺ نے لڑائیاں کیوں کی تھیں؟ وہ نادان اتنا نہیں جانتے کہ آنحضرت ﷺ نے جو جنگ کرہ برس تک خطرناک دُکھ اُٹھانے کے بعد کئے اور وہ بھی مدافعت کے طو رپر۔ تیرہ برس تک اُن کے ہاتھوں سے آپ تکالیف اٹھاتے رہے۔مسلمان مرد اور عورتیں شہید کی گئیں۔آخر جب آپ مدینہ تشریف لے گئے اور وہاں بھی ان ظالموں نے پیچھا نہ چھوڑا۔تو خدا تعالیٰ نے مظلوم قوم کو مقابلہ کا حکم دیا اور وہ بھی اس لیے کہ شریروں کی شرارت سے مخلوق کو بچایا جائے اور ایک حق پرست قوم کے لیے راہ کھل جائے۔آنحضرت ﷺ نے کبھی کسی کے لیے بدی نہیں چاہی۔ آپ تو رحم مجسم تھے۔اگر بدی چاہتے تو جب آپ نے پورا تسلط حاصل کر لیا تھا اور شوکت او ر غلبہ آپ کو مل گیا تھا تو آپ اُن تمام ائمۃ الکفر کو جو ہمیشہ آپ کو دُکھ دیتے رہتے تھے۔قتل کرو ا دیتے اور اس میں انصاف اور عقل کی رو سے آپ کاپل۳ہ بالکل پاک تھا، مگر باوجود اس کے کہ اُرفِ عام کے لحاظ سے اور عقل اور انصاف کے لحاظ سے آپ کو حق تھا کہ ان لوگوں کو قتل کروا دیتے مگر نہیں، آپؐ نے سب کو چھوڑ دیا۔آج کل جو لوگ غداری کرتے ہیں اور باغی ہوتے ہیں انہیں کون پناہ دے سکتا ہے۔جب ہندوستان میں غدر ہو گیا تھا اور اس کے بعد انگریزوں نے تسلط عام حاصل کر لیا تو تمام شریر باغی ہلاک کر دیئے گئے اور ان کی یہ طزا بالکل انصاف پرمبنی تھی۔باغی کے لیے کسی قانون میں رہائی نہیں۔لیکن یہ آپ ہی کا حوصلہ تھا کہ اس دن آپ نے فرمایا کہ جاو تم سب کو بخش دیا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو نوعِ نسان سے بہت بڑی ہمدردی تھی ایسی ہمدردی کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی۔ اس کے بعد بھی اگر کہا جاوے کہ اسلام دوسورن سے ہمدردی کی تعلیم نہیں دیتا تو اس سے بڑھ کر ظلم او رکیا ہوگا؟ یقیناً یاد رکھو کہ مومن متقی کے دل میں شر نہیں ہوتا۔ جس قدر