قسم کی تفریق نہیں ہے جیسا کہ سعدی نے کہا ہے ؎
بنی آدم اعضائے یک دیگر اند
یاد رکھو ہمدردی کا دائرہ میرے نزدیک بہت وسیع ہے۔کسی قوم اور فرد کو الگ نہ کرے۔میں آج کل کے جاہلوں کی طرح یہ نہیں کہنا چاہتا کہ تم اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں سے ہی مخصوص کرو۔نہیں۔ میں کہتا ہوںکہ تم خدا تعالیٰ کی ساری مخلوق سے ہمدردی کرو۔ خواہ وہ کوئی ہو۔ہندو ہو یا مسلمان یا کوئی اور۔میں کبھی ایسے لوگوں کی باتیں پسند نہیں کرتا جو ہمدردی کو صرف اپنی ہی قوم سے مخصوص کرنا چاہتے ہیں۔ان میں بعض اس قسم کے خیالات بھی رکھتے ہین کہ اگر ایک شیرے کے مٹکے میں ہاتھ ڈالا جاوے اور پھر اس کو تلوں میں ڈال کر تل لگائے جاویں تو جس قدر اس کو لگ جاویںل۔ اس قدر دھوکا اور فریب دوسرے لوگوں کو دے سکتے ہیں۔ان کی ایسی بیہودہ اور خیالی باتوں نے بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے اور اُن کو قریباً وحشی اور درندہ بنا دیا ہے۔مگر میں تمہیں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ تم ہرگز اپنی ہمدردی کے دائرہ کو محدود نہ کرو۔اور ہمدردی کے لیے اس تعلیم کی پیروی کرو جو اﷲ تعالیٰ نے دی ہے یعنی
ان اﷲ یا مر بالعدل والاحسن وایتای ذی القربی (لنحل : ۹۱)
یعنی اول نیکی کرنے میں تم عدل کو ملحوظ رکھو۔جو شخص تم سے نیکی کرے تم بھی اس کے ساتھ نیکی کرو۔
اور پھر دوسرا درجہ یہ ہے کہ تم اس سے بھی بڑھ کر اس سے سلوک کرو۔یہ احسان ہے۔احسان کا درجہ اگر چہ عدل سے بڑھا ہوا ہے اور یہ بری بھاری نیکی ہے لیکن کبھی نہ کبھی ممکن ہے احسان والا اپنا احسان جتلادے مگر ان سب سے بڑھ کر ایک درجہ ہے کہ انسان ایسے طور پر نیکی کرے جو محبت ذاتی کے رنگ میں ہو جس میں احسان نمائی کا بھی کوئی حصہ نہیں ہوتا ہے جیسے ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے وہ اس پرورش میں کسی اجر اور صلے کی خواستگار نہیں ہوتی بلکہ ایک طبعی جوش ہوتا ہے جو بچے کے لیے اپنے سارے سُکھ اور آرام قربان کر دیتی ہے۔یہانتک کہ اگر کوئی بادشان کسی مان کو حکم دیدے کہ تو اپنے بچہ کو دودھ مت پلا اور اگر ایسا کرنے سے بچہ ضائع بھی ہو جاوے تو اس کو کوئی سزا نہیں ہوگی تو کیا ماں ایسا حکم سنکر خوش ہوگی؟ اور اس کی تعمیل کرے گی؟ ہرگز نہیں۔بلکہ وہ تو انے دل میں ایسے بادشاہ کو کوسے گی کہ کیوں اس نے ایسا حکم دیا۔پس اس طریق پر نیکی ہو کہ اسے طبعی مرتبہ تک پہنچایا جاوے۔کیونکہ جب کوئی شئے ترقی کرتے کرتے اپنے طبعی کمال تک پہنچ جاتی ہے اس وقت وہ کا مل ہوتی ہے۔؎ٰ