ہے اس اپنے دوست سے خوش ہوگا؟کبھی نہیں؛ حالانکہ اس کو تو کوئی تکلیف اس نے نہیں دی، مگر نہیں۔اس نوکر کی خدمت اور اس کے ساتھ حسن سلوک گویا مالک کے ساتھ حسن سلوک ہے۔خدا تعالیٰ کو بھی اس طرح پر اس بات کی چڑ ہے کہ کوئی اس کی مخلوق سے سرد مہری برتے۔کیونکہ اس کو اپنی مخلوق بہت پیاری ہے۔پس جو شخص خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے وہ گویا اپنے خدا کو راضی کرتا ہے۔ غرض اخلاق ہی ساری ترقیات کا زینہ ہے۔میری دانست میں یہی پہلو حقوق العباد کا ہے جو حقوق اﷲ کے پہلو کو تقویت دیتا ہے۔ جو شخص نوع انسان کے ساتھ اخلاق سے پیش آتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔جب انسان خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے ایک کام کرتا ہے اور اپنے ضعیف بھائی کی ہمدردی کرتا ہے تو اس اخلاص سے اس کا ایمان قوی ہو جاتا ہے۔مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نمائش اور نمود کے لیے جو اخلاق برتے جائیں وہ اخالق خدا تعالیٰ کے لیے نہیں ہوتے اور ان میں اخلاص کے نہ ہونے کی وجہ سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ اس طرح پر تو بہت سے لوگ سرائیں وغیرہ بنادیتے ہیں۔ان کی اصل غرض شہرت ہوتی ہے۔اور اگر انسان خدا تعالیٰ کے لیے کوئی فعل کرے تو خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ اﷲ تعالیٰ اُسے ضائع نہیں کرتا اور اس کا بدلہ دیتا ہے۔میں نے تذکرۃ الاولیاء میں پڑھا ہے کہ ایک ولی اﷲ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ بارش ہوئی اور کئی روز تک رہی۔ان بارش کے دنوں میں مَیں نے دیکھ اکہ ایک اسی برس کا بوڑھا گبر ہے جو کوٹھے پر چڑیوں کے لیے دانے ڈال رہا ہے۔میں نے اس خایل سے کہ کافر کے اعمال حبط ہو جاتے ہیں اس سے کہا کہ کیا تیرے اس عمل سے تجھے کچھ ثواب ہوگا؟ اس گبر نے جواب دیا کہ ہاں ضرور ہوگا۔ پھر وہی ولی اﷲ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جو میں حج کو گیا تو دیکھاکہ وہی گبر طواف کر رہا یہ۔اس گبر نے مجھے پہچان لیا اور کہا کہ دیکھو ان دانوں کا مجھے ثواب مل گیا یا نہیں؟ یعنی وہی دانے میرے اسلام تک لانے کا موجب ہو گئے۔ حدیث میں بھی ذکر آیا ہے کہ ایک صحابیؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھ اکہ ایام جاہلیت میں مَیں نے بہت خرچ کیا تھا۔کیا اس کا ثواب بھی مجھے ہگوا؟ آنحضرت ﷺ نے اس کو جواب دیا کہ یہ اسی صدقہ و خیرات کا ثمرہ تو ہے کہ تو مسلمان ہو گیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کے ادنیٰ فعل اخلاص کو بھی ضائع نہیں کرتا۔اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کی ہمدردی اور خبر گیری حقوق اﷲ کی حفاظت کا باعث ہو جاتی ہے۔ پس مخلوق کی ہمدردی ایک ایسی شئے ہے کہ اگر انسان اُسے چھوڑدے اور اس سے دور ہوتا جاوے تو رفتہ رفتہ پھر وہ درندہ ہو جاتا ہے۔انسان کی انسانیت کا یہی تقاضا ہے اور وہ اسی وقت تک انسان ہے۔جبتک اپنے دوسرے بھئی کے ساتھ مروت، سلوک اور احسان سے کام لیتا ہے اور اس میں کسی