کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔اس لیے اول ضروری ہے کہ حتی الوسع اپنے بھائیوں پر بدظنی نہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظن رکھا جاوے، کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے اور اُنس پیدا ہوتا ہے اور آپس میں قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کینہ۔بغض۔حسد وغیرہ سے بچا رہتا ہے۔
پھر میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے ہیں جن میں اپنے بھائیوں کے لیے کچھ بھی ہمدردی نہیں۔اگر ایک بھائی بھوکا مرتا ہو تو دوسرا توجہ نہیں کرتا ارو اس کی خبر گیری کے لیے تیار نہیں ہوتا۔یا اگر وہ کسی اور قسم کی مشکلات میں ہے تو اتنا نہیں کرتے کہ اس کے لیے اپنے مال کا کوئی حصہ خرچ کریں۔حدیث شریف میں ہمسایہ کی خبرگیری اور اس کے ساتھ ہمدردی کا حکم آیت اہے بلکہ یہانتک بھی ہے کہ اگر تم گوشت پکائو تو شوربا زیادہ کر لو تا کہ اسے بھی دے سکو۔اب کیا ہوتا ہے اپنا ہی پیٹ پالتے ہیں،لیکن اس کی کچھ پروا نہیں۔یہ مت سمجھو کہ ہمسایہ سے اتنا ہی مطلب ہے جو گھر کے پاس رہتا ہو۔بلکہ جو تمہارے بھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں خواہ وہ سو کوس کے فاصلے پر بھی ہوں۔
اخلاق ہی ساری ترقیات کا زینہ ہے
ہر شخص کو ہر روز اپنا مطالعہ کرنا چاہیے کہوہ کہان تک ان امور کی پروا کرتا ہے اور کہانتک وہ اپنے بھائیوں سے ہمدردی اور سلوک کرتا ہے۔اس کا بڑا بھاری مطالبہ انسان کے ذمہ ہے۔ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ قیامت کے روز خدا تعالیٰ کہے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھان نہ کھلایا۔میں پیاسا تھا اور تونے مجھے پانی نہ دیا۔میں بیمار تھا۔تم نے میری عیادت نہ کی۔جن لوگوں سے یہ سوال ہوگا وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب تو کب پیاسا تھا جو پانی نہ دیا اور تو کب بیمار تھا جو تیری عیادت نہ کی۔پھر خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ میرا فلاں بندہ جو ہے وہ ان باتوں کا محتاج تھا مگر تم نے اس کی کوئی ہمدردی نہ کی۔اس کی ہمدردی میری ہی ہمدردی تھی۔ایسا ہی ایک اور جماعت کو کہے گا کہ شاباش! تم نے میری ہمدردی کی۔ میں بھوکا تھا۔تم نے مجھے کھانا کھلایا۔میں پیاسا تھا تم نے مجھے پنای پلایا وغیرہ۔ وہ جماعت عرض کرے گی کہ اے ہمارے خد اہم نے کب تیرے ساتھ ایسا کیا؟ تب اﷲ تعالیٰ جواب دیگاکہ میرے فلاں بندہ کے ساتھ جو تم نے ہمدردی کی وہ میری ہی ہمدردی تھی۔دراصل خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرنا بہت ہی بڑی بات ہے اور خد تعالیٰ اس کو بہت پسند کرتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ وہ اس سے اپنی ہمدردی ظاہر کرتا ہے۔عام طور پر دنیا میں بھی ایساہی ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کا خادم کسی اس کے دوست کے پاس جاوے اور وہ شخص اس کی خبر بھی نہ لے تو کیا وہ آقا جس کا کہ وہ خادم