جاتی۔اسے دوبارہ قائم کرے۔ عام طور پر تکبر دنای میں پھیلا ہوا ہے۔علماء اپنے علم کی شیخی اور تکبر میں گرفتار ہیں۔فقراء کو دیکھو تو ان کی بھی حالت اور ہی قسم کی ہو رہی ہے۔ان کو اصلاح نفس سے کوئی کام ہی نہیں رہا۔ان کی غرض و غایت صرف جسم تک محدود ہے۔اس لیے اُن کے مجاہدے اور ریا صنتیں بھی کچھ اور ہی قسم ی ہیں جیسے ذکرِ ارّہ وغیرہ۔جن کا چشمۂ نبوت سے پتہ نہیں چلتا۔میں دیکھتا ہوں کہ دل کو پاک کرنے کی طرف ان کی توجہ ہی نہیں۔صرف جسم ہی جسم باقی رہا ہوا ہے۔جس میں روحانیت کا کوئی نام و نشان نہیں۔یہ مجاہدے دل کو پاک نہیں کر سکتے اور نہ کوئی حقیقی نور معرفت کا بخش سکتے ہیں۔پس یہ زمانہ ابالکل خالی ہے۔نبوی طریق جیسا کہ کرنے کا تھا وہ بالکل ترک کر دیا گیا ہے اور اسا دیا ہے۔اب اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ عہد نبوت پھر آجاوے اور تقویٰ اور طہارت پھر قائم ہو۔اور اس کو اس ن اس جماعت کے ذریعہ چاہا ہے۔ پس فرض ہے کہ حقیقی اصلاح کی طرف تم توجہ کرو اسی طرح پر جس طرح پر آنحضرت ﷺ نے اصلاح کا طریق بتایا ہے۔ حقوق اﷲ اور حقوق العباد شریعت کے دو ہی بڑے حصے اور پہولو ہیں جن کی حفاظت انسان کو ضروری ہے۔ایک حق اﷲ ، دوسرے حق العباد۔ حق اﷲ تو یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی محبت، اس کی اطاعت ، عبادت، توحید، ذات اور صفات میں کسی دوسری ہستی کو شریک نہ کرنا۔اور حق العباد یہ ہے کہ اپنے بھائیوں سے تکبر، خیانت اور ظلم کسی نوع کا نہ کیا جاوے۔گو یا اخلاقی حصہ میں کسی قسم کا فتور نہ ہو۔سننے میں تو یہ دو ہی فقرے ہیں، لیکن عمل کرنے مٰں بہت ہی مشکل ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کا بڑے ہی فضل انسان پر ہو تو وہ ان دونوں پہلوئوں پر قائم ہو سکت اہے۔کسی میں قوتِ غضبی بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔جب وہ جوش مارتی ہے تو نہ اس کا دل پاک رہ سکتا ہے اور نہ زبان۔دل سے اپنے بھائی کے خلاف ناپاک منصوبے کرتا ہے اور زبان سے گالی دیتا ہے۔اور پھر کینہ پیدا کرتا ہے۔کسی میں قوت شہوت غالب ہوتی ہے اور وہ اس میں گرفتار ہو کر حدود اﷲ کو توڑتا ہے۔غرض جب تک انسان کی اخلاقی حالت بالکل درست نہ ہو وہ کامل ایمان جو منعم علیہ گروہ میں داخل کرتا ہے اور جس کے ذریعہ سچی معرفت کا نور پیدا ہوتا ہے اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔پس دن رات یہی کوشش ہونی چاہیے کہ بعد اس کے جو انسان سچا موحد ہو اپنے اخلاق کو درست کرے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت اخلاقی حالت بہت ہی گری ہوئی ہے۔ اکثر لوگوں میں بدظنی کا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔وہ اپنے بھائی سے نیک ظنی نہیں رکھتے اور ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بُرے بُرے خیالات کرنے لگتے ہیں اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب