طرح عیب ثینی کرکے اپنے بھائی کو ذلیل کرنا اور نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔رات دن اس کے عیبوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔اس قسم کی باریک بدیاں ہوتی ہیں۔جن کا دور کرتا بہت مشکل ہوتا ہے اور شریعت ان باتوں کو جائز نہیں رکھتی ہے۔ان بدیوں میں عوام ہی مبتلا نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ جومتعارف اور موٹی موٹی بدیاں نہیں کرتے ہیں اور خواص سمجھے جاتے ہیں وہ بھی اکثر مبتلا ہو جاتے ہیں۔ان سے خلاصی پانا اور مرنا ایک ہی بات ہے۔ اور جبتک ان بدیوں سے نجات حاصل نہ کلے۔تزکیۂ نفس کامل طور پر نہیں ہوتا اور انسان ان کمالات اور انعامات کا وارث نہیں بنتا جو تزکیۂ نفس کے بعد خدا تعالیٰ کی طرھ سے آتے ہیں۔بعض لوگ اپنی جگہ سمجھ لیتے ہیخلاقی بدیوں سے ہم نے خلاصی پالی ہے، لیکن جب کبھی موقعہ آپڑتا ہے اور کسی سفیہ سے مقابلہ ہو جاوے تو انہیں بڑا جوش آتا ہے اور پھر وہ گند ان سے ظہر ہوتا ہے جس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔اس وقت پتہ لگتا ہے کہ ابھی کچھ بھی حاصل نہیں کیا اور وہ تزکیۂ نفس جو کامل کرتا ہے میسر نہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تزکیہ جس کو اخلاقی تزکیہ کہتے ہیں بہت ہی مشکل ہے اور اﷲ تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔اس فض کے جذب کرنے کے لیے بھی وہی تین پہلو ہیں۔اولؔ مجاہدہ اور تدبیر۔ دومؔ دعا۔سومؔ صحبت صادقین۔
یہ فضل الٰہی انبیاء علیہم السلام پر بد رجہ کمال ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اول اُن کا تزکیہ اخلاقی کامل طور پر خود کر دیتا ہے۔ان میں بد اخلاقیوں اور رذائل کی آلائش رہ ہی نہیں جاتی۔ان کی حالت تو یہانتک پہنچ جاتی ہے کہ سلطنت پا کر بھی وہ فقیر ہی رہتے ہیں ۔اور کسی قسم کا کبر ان کے پاس نہیں آتا۔
خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر تزکیۂ نفس حاصل نہیں ہوتا
درحقیقت یہ گند جو نھس کے جذبات کا ہے اور بداخلاقی۔کبر۔ریا وغیرہ صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اس پر موت نہیں آتی جبتک اﷲ تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور یہ مواد ردّ یہ جل نہیں سکتے۔جب تک معرفت کی آگ اُن کو نہ جلائے۔جس میں یہ معرفت کی آگ پیدا ہو جاتی ہے وہ ان اخلاقی کمزوریوں سے پاک ہونے لگتا ر بھی اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے اور اپنی ہستی کو کچھ حقیقت نہیں پاتا۔ وہ اس نور اور روشنی کو جو انوارِ معرفت سے اُسے ملتی ہے اپنی کسی قابلیت اور خوبی کا نتیجہ نہیں مانتا اور نہ اسے اپنے نفس کی طرف منسوب کرتا ہے بلکہ وہ اُسے خدا تعالیٰ ہی کافضل اور رحم یقین کرتا ہے جیسے ایک دیوار پر آفتاب کی روشنی اور دھوپ پڑ کر اُسے منور کر دیتی ہے، لیکن دیوار اپنا کوئی فخر نہیں کر سکتی کہ یہ روشنی میری قابلیت کی وجہ سے ہے۔یہ ایک دوسری بات ہے کہ جس کدر وہ دیوار صاف ہوگی اسی قدر روشنی زیادہ صاف ہوگی، لیکن کسی حال میں دیوار کی ذاتی قابلیت اس روشنی کے لیے کوئی نہیں بلکہ اس کا