فخر آفتاب کو ہے اور ایس اہی وہ آفتاب کو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ تو اس روشنی کو اُڑھالے۔اسی طرح پر انبیاء علیہم السلام کے نفوس صافیہ ہوتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ کے فیضان اور فیوض سے معرفت کے انوار ان پر پڑتے ہیں اور ان کو روشن کر دیتے ہیں اسی لیے وہ ذاتی طور پر کوئی دعویٰ نہیں کرتے بلکہ ہر ایک فیض کو اﷲ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور یہی سچ بھی ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا آپؐ اعمال سے داخل جنت ہوں گے تو یہی فرمایا کہ ہرگز نہیں؎ٰ۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے۔ انبیاء علیہم السلام کبھی کسی قوت اور طاقت کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتے وہ خدا ہی سے پاتے ہیں اور اسے کا نام لیتے ہیں۔
ہاں ایسے لوگ ہیں جو انبیاء علیہم السلام سے حالانکہ کروڑوں حصہ نیچے کے درجہ میں ہوتے ہیں جو دو دن نماز پڑھ کر تکبر کرنے لگتے ہیں اور ایسا ہی روزہ اور حج سے بجائے تزکیہ کے ان میں تکبر اور نمود پیدا ہوتی ۲؎ ہے۔ یاد رکھو تکبر شیطان سے آیا ہے اور شیطان بنا دیتا ہے۔جبتک انسان اس سے دور نہ ہو۔یہ قبول حق اور فیضانِ الوہیت کی راہ میں روک ہو جاتا ہے کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہیے نہ علم کے لحاظ سے نہ دولت کے لحاظ سے نہ وجاہت کے لحاظ سے نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے۔کیونکہ زیادہ تر انہیں باتوں سے یہ تکبر پیدا ہوتا ہے اور جبتک انسان ان گھمنڈوں سے اپنے آپ کو پاک صاف نہ کرے گا۔اس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ نہیں ہوسکتا اور وہ معرفت جو جذبات کے مواد ردّیہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی،کیونکہ یہ شیطان کا حصہ ہے اس کو اﷲ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔شیطان نے بھی تکبر کیا تھا اور آدم سے اپنے آپ کو بہتر سمجھا اور کہ دیا
انا خیر منہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین (الاعراف : ۱۳)
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ خدا تعالیی کے حضور سے مردود ہو گیا اور آدم لغزش پر (چونکہ اسے معرفت دی گئی تھی) اپنی کمزوری کا اعتراف کرنے لگا۔اور خدا تعالیٰ کے فضل کا وارث ہوا۔وہ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا اس لیے دعا کی
ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفر لنا وترحمنا لنکو نن من الخاسرین (الاعراف : ۲۴)
یہی وہ سر ہے جو حضرت عیسیٰ ؑکو