صدق، وفا میں پنا نظیر نہ رکھتے تھے۔پس اس دعا کی تعلیم سے یہ سکھایا کہ نیکی اور انعام ایک الگ شئے ہے۔جبتک انسان اُسے حاصل نہیں کرتا، اس وقت تک وہ نیک اور صالح نہیں کہلا سکتا اور منعم علیہ کہ زمرہ میں نہیں آتا۔ اس سے آگے فرمایا
غیر المغضوب علیہم والا الضالین (الفاتحہ : ۷)
اس مطلب کو قرآن شریف نے دوسرے مقام پر یوں فرمایا ہے کہ مومن کے نفس کی تکمیل دوشربتوں کے پنے سے ہوتی ہے ایک شربت کا نام کافوری ہے اور دوسرے کا نام زنجیلی ہے۔کافوری شربت تو یہ ہے کہ اس کے پینے سے نفس بالکل ٹھنڈا ہو جاوے اور بدیوں کے لیے کسی قسم کی حرارت اس میں محسوس نہ ہو۔جس طرح پر کافور میں یہ خاصہ ہوتا ہے کہ وہ زہریلے مواد کو دبا دیتا ہے۔اسی لیے اُسے کافور کطرح پر یہ کافوری شربت گناہ اور بدی کی زہر کو دبا دیتا ہے اور وہ موادِ ردّیہ جو اُٹھ کر انسان کی روح کو ہلاک کرتے ہیں ان کو اُٹھنے نہی دیتا بلکہ بے اثر کر دیتا ہے۔دوسرا شربت زنجیلی ہے جس کے ذریعہ سے انسان میں نیکیوں کے لیے ایک قوت اور طاقت آتی ہے اور پھر حرارت پیدا ہوتی ہے۔پس
اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم (الفاتحہ: ۶، ۷)
تو اصل مقصد اور غرض ہے یہ گویا زنجیلی شربت ہے اور
غیر المغضوب علیہم ولا الضالین (الفاتحہ : ۷)
کافوری شربت ہے۔
باریک اور مخفی بدیوں سے بچنے کی تلقین
اب ایک اور مشکل ہے کہ انسان موٹی موٹی بدیوں کو تو آسانی سے چھوڑ بھی دیتا ہے، لیکن بعض بدیاں ایسی باریک اور مخفی ہوتی ہیں کہ اول تو انسان مشکل سے انہیں معلوم کرتا ہے اور پھر ان کا چھوڑنا اُسے بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ محرقہ بھی گوسخت تپ ہے مگر اس کا علاج کھُلا کھُلا ہو سکتا ہے لیکن تپدق جو اندر ہی کھا رہا یہ اس کا علاج بہت ہی مشکل ہے۔اسی طرح پر یہ باریک اور مخفی بدیاں ہوتی ہیں جو انسنا کو فضائل کے حاصل کرنے سے روکتی ہیں۔یہ اخلاقی بدیاں ہوتی ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ اور معاملات میں پیش آتی ہیں اور ذرسی بات اور اختلاف رائے پر دلوں میں بغض، کینہ، حسد، ریا، تکبر پیید اہو جاتا ہے اور اپنے بھائی کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔چند روز اگر نماز سنوار کر پڑھی ہے اور لوگوں نے تعریف کی توریا ار نمود پیدا ہو گیا اور وہ اصل غرض جو اخلاص تھی جاتی رہی۔ اور اگر خدا تعالیٰ نے دولت دی ہے یا علم دیا ہے یا کوئی خاندانی وجاہت حاصل ہے تو اس کی وجہ سے اپنے بھائی کو جس کو یہ باتیں نہیں ملی ہیں، حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے۔اور اپنے بھائی کی عیب چینی کے لیے حریص ہوتا ہے۔اور تکبر مختلف رنگوں میں ہوتا ہے۔کسی میں کسی رنگ میں اور کسی میں کسی طرح سے۔علماء علم کے رنگ میں اُسے ظاہر کرتے ہیں اور علمی طور پر نکتہ چینی کر کے اپنے بھائی کو گرانا چاہتے ہیں۔ غرض کسی نہ کسی