جماعت (جس کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے قرآن شریف میں کیا ہے کہ انہوں نے ایسے اعمالِ صالحہ کیے کہ خدا تعالیٰ اُن سے راضی ہو گیا اور وہ خدا تعالیٰ سے راضی ہو گئے) صرف ترکِ بدی ہی سے نہ بنی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگیوں کو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہیچ سمجھا۔خدا کی مخلوق کو نفع پہنچانے کے واسطے اپنے آرام و آسائش کو ترک کر دیا۔تب جا کر وہ ان مدارج اور مراتب پر پہنچے کہ آواز آگئی۔ رضی اﷲ عنہم ورضو اعنہ (البینۃ : ۹) مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت مسلمانوںکی یہ حالت ہو رہی ہے کہ کسبِ خیر تو بڑی بات ہے اور وہی اصل مقصد ہے، لیکن وہ تو ترکِ بدی میں بھی سُست نظر آتے ہیں اور ان کاموں کا تو ذکر ہی کیا ہے جو صلحاء کے کام ہیں۔ پس تمہیں چاہیے کہ تم ایک ہی بات اپنے لیے کاھی نہ سمجھ لو۔ہاں اول بدیوں سے پرہیز کرو۔اور پھر ان کی بجائے نیکیوں کے حاصل کرنے کے واسطے سعی اور مجاہدہ سے کام لو اور پھر خدا تعالیٰ کی توفیق اور اس کا فضل دعا سے مانگو۔جبتک انسان ان دونوں صفات سے متصف نہیں ہوتا یعنی بدیاں چھوڑ کر نیکیاں حاصل نہیں کرتا وہ اس وقت تک مومن نہیں کہلا سکتا۔مومن کامل ہی کی تعریف میں تو انعمت علیہم فرمایا گیا ہے۔اب غور کرو کہ کیا اتنا ہی انعام تھا کہ وہ ثوری چکاری رہزنی نہیں کرتے تھے یا اس سے کچھ بڑھ کر مراد ہے؟ نہیں۔ انعمت علیہم میں تو وہ اعلیٰ درجہ کے انعامات رکھے ہیں جو مخاطبہ اور مکالمہ الٰہیہ کہلاتے ہیں۔؎ٰ اگر اسی قدر مقصود ہوتا جو بعض لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ موٹی موٹی بدیوں سے پرہیز کرنا ہی کمال انعمت علیہم کی دعا کی تعلیم نہ ہوتی جس کا انتہائی اور آخری مرتبہ اور مقام خدا تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ یہ۔انبیاء علیہم السلام کا اتنا ہی تو کمال نہ تھا۔کہ وہ چوری چکاری نہ کیا کرتے تھے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت