یعنی صادقوں کے ساتھ رہو۔صادقوں کی صحبت میں ایک خاص اثر ہوتا ہے۔ان کا نور صدق و استقلال دوسروں پر اثر ڈالتا ہے اور اُن کی کمزوریوں کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ تین ذریعے ہیں جو ایمان کو شیطان کے حملوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور اُسے طاقت دیتے ہیں اور جبتک ان ذرائع سے انسان فائدہ نہیں اُٹھتا اس وقت تک اندیشہ رہتا ہے کہ شیطان اس پر حملہ کر کے اسکے متاعِ ایمان کو چھین نہ لے جاوے اسی لیے بہت بڑی ضرورت اس امر کی ہے کہ مضبوطی کے ساتھ اپنے قدم کو رکھا جاوے اور ہر طرح سے شیطانی حملوں سے احتیاط کی جاوے۔جو شخص ان تینوں، ہتھیاروں سے اپنے آپ کو مسلح نہیں کرتا ہے مجھے اندیشہ یہ کہ وہ کسی اتفاقی حملہ سے نقصان اُٹھاوے۔ دفع شر کے بعد خیر اصل مقصد ہے لیکن یہ بات یاد رکھو کہ کتابوں میں جب لکھا جاتا ہے کہ بدیاں چھوڑ دو اور نیکیاں کرو تو بعض آدمی اتنا ہی سمجھ لیتے ہیں کہ نیکیوں کا کمال اسی قدر ہے کہ جو مشہور بدیاں ہیں مثلا چوری، زنا، غیبت، بد دیانتی، بد نظری وغیرہ موٹی موٹی بدیوں سے بچتے ہیں تو اپنے آپ کو سمھنے لگتے ہیں کے تمام مدارج حاصل کر لیے ہیں اور ہم بھی کچھ ہو گئے ہیں۔حالانکہ اگر غور کر کے دیکھ اجاوے تو یہ کچھ بھی چیز نہیں ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو چوری نہیں کرتے ہیں۔بہت سے ایسے ہیں جو ڈاکے نہیں مارتے یا خون نہیں کرتے یا بد نظری یا بدکاری کی بدعادتوں میں مبتلا نہیں ہیں۔زیادہ سے زیادہ اسے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس نے ترکِ شر کیا ہے خواہ وہ عدمِ قدرت ہی کی وجہ سے ہو۔قرآن شریف صرف اتنا ہی نہیں چاہتا کہ انسان ترکِ شر کرکے سمجھ لے کہ بس اب میں صاحب کمال ہو گیا، بلکہ وہ تو انسان کو اعلیٰ درجہ کے کمالات اور اخلاقِ فاضلہ سے متصف کرنا چاہتا ہے کہ اس سے ایسے اعمال و افعال سر زد ہوں جو بنی نوع کی بھلائی اور ہمدردی پر مشتمل ہوں اور اُن کا نتیجہ یہ ہو کہ اﷲ تعالیٰ اس سے راضی ہو اجوے۔ میں اس بات کو بار بار کہتا ہوں کہ تم میں سے کوئی اپنی ترقی اور کمال روحانی کی یہی انتہانہ سمجھ لے کہ میں نے ترکِ بدی کی ہے۔صرف ترک بدی نیکی کے کامل مفہوم اور منشاء کو اپنے اندر نہیں رکھتی۔بار بار ایسا تصور کرنا کہ میں نے خون نہیں کیا خوبی کی با ت نہیں کیونکہ خون کرنا ہر ایک شخص کا کام نہیں ہے۔یا یہ کہنا کہ زنا نہیں کای کیونکہ زنا کرنا تو کنجروں کا کام ہے نہ کہ کسی شریف انسان کا ۔ایسی بدیوں سے پرہیز زیادہ سے زیادہ انسان کو بدمعاشوں کے طبقے سے خارج کردے گا؎ٰ۔ اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔مگر وہ