گناہوں کو معاف شدہ سمجھتا ہے۔ اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ دعا کرتا رہے۔اور ایک ہندو جو یقین کرتا ہے کہ توبہ قبول ہی نہیں ہوتی اور تناسخ کے چکر سے رہائی ہی نہیں ہے وہ کیوں دعا کے واسطے ٹکریں مارتا رہے گا۔ وہ تو یقینا سمجھتا ہے کہ کتے،بلے،بندر،سؤر بننے سے چارہ ہی نہیں ہے۔اس لیے یاد رکھو کہ یہ اسلام کا فخر اور ناز ہے کہ اس میں دعا کی تعلیم ہے اس میں کبھی سستی نہ کرو اور نہ اس سے تھکو۔ پھر دعا خدا تعالیٰ کی ہستی کا زبردست ثبوت ہے؛ چنانچہ خدا تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے واذاسالک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان (البقرۃ : ۱۸۷) یعنی جب میرے بندے تجھ سے سوال کریں کہ خدا کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے تو کہدو کہ وہ بہت ہی قریب ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اسے جواب دیتا ہوں۔یہ جواب کبھی رؤیا صالحہ کے ذریعہ ملتا ہے اور کبھی کشف اور الہام کے واسطے سے۔اور علاوہ بریں دعائوں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کا اظہار ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا قادر ہے کہ مشکلات کو حل کر دیتا ہے۔ غرض دعا بڑی دولت اور طاقت ہے اور قرآن شریف میں جابجا اس کی ترغیب دی ہے اور ایسے لوگوں کے حالات بھی بتائے ہیں جنہوں نے دعا کے ذریعہ اپنی مشکلات سے نجات پائی۔انبیاء علیہم السلام کی زندگی کی جر اور ان کی کامیابیوں کا اصل اور سچا ذریعہ یہی دعا ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی ایمانی اور عملی طاقت کو بڑھانے کے واسطے دعائوں میں لگے رہو۔دعائوں کے ذریعہ سے ایسی تبدیلی ہوگی جو خدا کے فضل سے خاتمہ بالخیر ہو جاوے گا۔ تیسرا ذریعہ صحبتِ صادقین تیسرا پہلو؎ٰ جو قرآن سے ثابت ہے وہ صحبت صادقین ہے۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کونو امع الصادقین (التوبہ : ۱۱۹)