پہلے ہی زمین، چاند، سورج، ہوا،پانی وغیرہ جس قدر اشیاء انسان کے لیے ضروری ہیں موجود ہوتی ہیں۔ اور پھر وہ اﷲ رحیم ہے یعنی کسی کے نیک اعمال کو ضائع نہیں کرتا بلکہ پاداشِ عمل دیتا ہے۔ پھر مالک یوم الدین ہے یعنی جزا وہی دیتا ہے اور وہی یوم الجزاء کا مالک ہے۔اس قدر صفات اﷲ کے بیان کے بعد دعا کی تحریک کی ہے۔جب انسان اﷲ تعالیٰ کی ہستی اور ان صفات پر ایمان لاتا ہے ، تو خواہ مخواہ روح میں ایک جوش اور تحریک ہوتی ہے اور دعا کے لیے اﷲ تعالیٰ کی طرف جھکتی ہے۔ اس کے بعد اھدنا الصراط المستقیم کی ہدایت فرمائی ؎ٰ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تجلیات اور رحمتوں کے ظہور کے لیے دعا کی بہت بڑی ضرورت ہے۔اس لیے اس پر ہمیشہ کمر بستہ رہو اور کبھی مت تھکو۔ غرض اصلاحِ نفس کے لیے اور خاتمہ تبالخیر ہونے کے لیے نیکیوں کی توفیق پانے کے واسطے دوسرا پہلو دعا کا ہے۔اس میں جس قدر توکل اور یقین اﷲ تعالیٰ پر کریگا۔اور اس راہ میں نہ تھکنے والا قدم رکھے گااسی قدر عمدہ نتائج اور ثمرات ملیں گے۔تمام مشکلات دور ہو جائیں گی اور دعا کرنے والا تقویٰ کے اعلیٰ محل پر پہنچ جائے گا۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ جبتک خدا تعالیٰ کسی کو پاک نہ کرے کوئی پاک نہیں ہوسکتا ۔نفسانی جذبات پر محض خدا تعالیٰ کے فضل اور جذبہ ہی سے موت آتی ہے اور یہ فضل اور جذبہ دعا ہی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ طاقت صرف دعا ہی سے ملتی ہے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ مسلمانوں اور خصوصاً ہماری جماعت کو ہرگز ہرگز دعا کی بے قدری نہیں کرنی چاہیے۔کیونکہ یہی دعا تو ہے جس پر مسلمانوں کو ناز کرنا چاہیے۔ اور دوسرے مذاہب کے آگے تو دعا کے لیے گندے پتھر پڑے ہوئے ہیں ۲؎۔ اور وہ توجہ نہیں کر سکتے ۔ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ ایک عیسائی جو خونِ مسیح پرایمان لا کر سارے