کبھی نہیں۔اسی طرح جس کو پیاس لگی ہوئی ہے ایک قطرہ پانی سے اس کی پیاس کب بُجھ سکتی ہے،بلکہ سیر ہوین کے لیے چاہیے کہ وہ کافی غذا کھاوے اور پیاس بجھانے کے واسطے لازم ہے کہ کافی پانی پیوے۔تب جاکر اس کی تسلی ہو سکتی ہے۔
اسی طرح پر دعا کرتے وقت بے دلی اور گھبراہٹ سے کام نہیں لینا چاہیے اور جلدی ہی تھک کر نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ اس وقت تک ہٹنا نہیں چاہیے جبتک دعا اپنا پورا اثر نہ دکھائے۔جو لوگ تھک جاتے اور کھبرا جاتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں،کیونکہ یہ محروم رہ جانے کی نشنای ہے۔میرے نزدیک دعا بہت عمدہ چیز ہے اور میں اپنے تجربہ سے کہتا ہوں خیالی بات نہیں۔جو مشکل کسی تدبیر سے حل نہ ہوتی ہو۔ اﷲ تعالیٰ دعا کے ذریعہ اُسے آسان کر دیتاہے۔میں سچ کہتاہوں کہ دعا بڑی زبردست اثر والی چیز ہے۔بیماری سے شفا اس کے ذریعہ ملتی ہے۔دنیا کی تنگیاں مشکلات اس سے دور ہوتی ہیں۔دشمنوں کے منصوبے سے یہ بچا لیتی ہے اور وہ کیا چیز ہے جو دعا سے حاصل نہیں ہوتی۔سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کو پاک یہ کرتی ہے اور خدا تعالیٰ پر زندہ ایمان یہ بخشتی ہے۔گناہ سے نجات دیتی ہے اور نیکیوں پر استقامت اس کے ذریعہ سے آتی ہے؎ٰ۔ بڑا ہی خوش قسمت وہ شخص ہے جس کو دعا پ ایمان ہے کیونکہ وہ اﷲ تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کو دیکھتا ہے اور خدا تعالیٰ کو دیکھ کر ایمان لاتا ہے کہ وہ قادر کریم خد اہے۔
اﷲ تعالیٰ نے شروع قرآن ہی میں دع اسکھائی ہیجس سے معلوم ہوت اہے کہ یہ بڑی عظیم الشان اور ضروری چیز ہے۔اس کے بغی انسان کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
الحمد ﷲ رب العلمین۔ الرحمن الرحیم۔ مالک یوم الدین (الفاتحہ : ۲ - ۴)
اس میں اﷲ تعالیٰ کی چار صفات کو جوام الصفات ہیں بیان فرمایا ہے۔
رب العلمین ظاہر کرتا ہے کہ وہ ذرہ ذرہ کی ربوبیت کر رہا ہے۔عالم اسے کہتے ہیں جس کی خبر مل سکے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز دنای میں ایسی نہیں ہے جس کی ربوبیت نہ کرتا ہو۔ارواح اجسام وغیرہ سب کی ربوبیت کر رہا ہے۔وہی ہے جو ہر ایک ثیز کے حسبِ حال اس کی پرورش کرتا ہے جہاں جسم کی پرورش فرماتا ہے وہاں روح کی سیری اور تسلی کے لیے معارف اور حقائق وہی عطا فرماتا ہے۔
پھر فرمایا ہے کہ وہ رحمٰن ہے یعنی اعمال سے بھی پیشتر اس کی رحمتیں موجود ہیں۔پیدا ہونے سے