ہونا ہی ہے۔پھر دعا کی کیا حاجت ہے،مگر میں خوب جانت اہوں کہ یہ تو نرا بہانہ ہے انہیں ثونکہ دعا کا تجربہ نہیں اس کی؎ٰ تاثیرات پر اطلاع نہیں اس لیے اس طرح کہہ دیتے ہیں ورنہ اگر وہ ایسے ہی متوکل ہیں تو پھر بیمار ہو کر علاج کیوں کرتے ہیں؟۔ خطرناک امراض میں مبتلا ہوتے ہیں تو طبیب کی رف دوڑے جاتے ہیں۔بلکہ میں سچ کہتاہوں کہ سب سے زیادہ چارہ کرنے والے یہی ہوتے ہیں۔سید احمد خاں بھی دعا کے منکر تھے، لیکن جب اُن کا پیشاب بند ہوا تو دلی سے معالج ڈاکٹر کو بلایا۔یہ نہ سمجھ لیا کہ خود بخود ہی پیشاب کھل جاوے گا؛ حالانکہ وہی خدا ہے جس کے ملکوت میں ظاہری دنیا ہے جبکہ دوسرے اشیاء میں تاثیرات موجود ہیں تو کیا وجہ ہے کہ باطنی دنیا میں تاثیرات نہ ہوں۲؎۔ جن میں سے دعا ایک زبردست چیز ہے۔یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قضاو قدر میں سب کچھ ہے مگر کوئی یہ تو بتائے کہ خدا تعالیٰ نے وہ فہرست کس کو دی ہے جس سے معلوم ہو جاوے۔میں سچ کہتا ہوں کہ ان اسرار پر پر کوئی فتح نہیں پاسکتا ۔ظاہر میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص قبض سے بیمار ہے تو تربدیا کسٹرائیل جب اس کو دیا جاوے گا تو اسے اسہال آجاویں گے۔اور قبض کھل جائے گی۔کیا یہ اس امر کا بین ثبوت نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ نے تاثیرات رکھی ہوئی ہیں۔
اسی طرح پر اور تدابیر کرنے والے ہیں۔مثلاً زراعت کرنے والے اور یہی معالجات کرنے والے وہ خوب جانتے ہیں کہ ان تدابیر کی وجہ سے اُنہوں نے فائدہ اٹھایا ہے اور اشیء میں مختلف اثر دیکھے ہیں۔پھر جبکہ ان چیزوں میں تاثیرات موجود ہیں تو کیا وجہ ہے کہ دعائوں میں جو وہ بھی مخفی اسباب اور تدابیر ہیں اثر نہ ہوں؟ اثر ہیں اور ضرور ہیں ۔لیکن تھوڑے لوگ ہیں جیو ان تاثیرات سے واقف ارو آشنا ہیں اس لیے انکار کر
بیٹھتے ہیں۔
آدابِ دعا
میں یقینا جانتا ہوں کہ چونکہ بہت سے لوگ دنیا میں ایسے ہیں جو اس نقطہ سے جہاں دعا اثر کرتی ہے دور رہ جاتے ہٰں اور وہ تھک کر دعا چھوڑ دیتے ہیں اور خدو ہی یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ دعائوں میں کوئی اثر نہیں ہے۔میں کہت اہوں کہ یہ تو اُن کی اپنی غلطی اور کمزوری ہے۔جب تک کافی وزن نہ ہو خاوہ زہر ہو یا تریاق اس کا اثر نہیں ہوتا۔کسی کو بھوک لگی ہوئی ہو اور وہ چاہے کہ ایک دانہ سے پیٹبھر لے یا تو لا بھر غذا کھالے تو کای ہو سکتاہے کہ وہ سیر ہو جاوے؟