نے اس پر بھروسہ کر لیا اور سمجھ لیا کہ ہمارے سارے گناہ اس نے اُٹھا لیے ہیں۔پھر وہ کونسا امر ہے جو اس کو دعا کے لیے تحریک کرے گا۔نا ممکن ہے کہ وہ گدازش دل کے ساتھ دعا کرے۔دعا تو وہ کرتا ہے جو اپنی ذمہ داری اور جواب دہی کو سمجھتا ہے،لیکن جو شخص اپنے آپ کو بری الذمہ تصور کرتا ہے وہ دعا کیوں کرے گا۔اس نے تو پہلے ہی سمجھ لیا ہے کہ گناہ دوسرے شخص نے اُٹھالیے ہیں اور اس طرح پر اس کے ذمہ کوئی جواہدہی نہیں تو اس کے دل میں تحریک کس ططرح ہو گی۔اس نے اور شئے پر بھروسہ کر لیا ہے اور اس طرح پر اس طریق سے جو دعا کا طریق ہے وہ دور چلا گیا ہے ۳؎۔
غرض ایک عیسائی کے نزدیک دعا بالکل بے سود ہے اور و اس پر عمل نہیں کر سکتا۔اس کے دل میں وہ رقت اور جوش جو دع اکے لیے حرکت پیدا کرتا ہے نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح پر ایک آریہ جوتناسخ کا قاتل ہے اور سمجھتا ہے کہ توبہ قبول ہی نہیں ہو سکتی اور کسی طرح پر اس کے گنہ معاف نہیں ہو سکتے وہ دعا کیوں کرے گا؟ اس نے تو یہ یقین کی اہوا ہے کہ جونوں کے چکر میں جانا ضروری ہے اور بیل۔گھوڑا۔گدھا۔گائے۔کتا۔سؤر وغیرہ بننا ہے۔وہ اس راہ کی طرف آئے گا ہی نہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہد عا اسلام کا خاص فخر ہے اور مسلمانوں کو اس پر بڑا ناز ہے۔
مگر یہ یاد رکھو کہ یہ دعا زبانی بک بک کا نام نہیں ہے بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ دل خدا تعالیٰ کے خوف سے بھر جاتا ہے اور دعا کرنے والے کی روح پانی کی طرح بہہ کر آستانۂ الوہیت پر گرتی ہے اور اپنی کمزوریوں اور لغزشوں کے لیے قوی اور مقتد خدا سے طاقت اور قوت ار مغفرت چاہتی ہے اور یہ وہ حالت ہے کہ دوسرے الفاظ میں ا سکو موت کہہ سکتے ہیں۔جب یہ حالت میسر آجاوے تو یقینا سمجھو کہ باب ِ اجامت اس کے لیے کھولا جاتا ہے اور خاص قوت اور فضل اور استقامت بدیوں سے بچنے اور نیکیوں پر استقلال کیلیے عطا ہوتی ہے یہ ذریعہ سب سے بڑھ کر زبردست ہے۔
اس زمانہ کے لوگ دعا کی تاثیرات کے منکر ہو گئے ہیں
مگر بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگ دعا کی حقیقت وار حالت سے محض ناواقف ہیں۔اور اسی وجہ سے اس زمانہ میں بہت سے لوگ اس سے منکر ہو گئے ہیں کیونکہ وہ اس تاثیرات کو نہین پاتے اور منکر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہونا ہے وہ تو