میں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان نفس امارہ کے پنجہ میں گرفتار ہونے کے باوجود بھی تدبیروں میں لگ ہوا ہوتا ہے تو اس کا نفس امارہ خد اتعالیٰ کے نزدیک لوامہ ہو جاتا ہے اور ایسی قابل قدر تبدیلی پا لیتا ہے کہ یا تو وہ امارہ تھا جو لعنت کے قابل تھا ارو یا تدبیر اور تجویز کرنے سے وہی قابل لعنت نفس امارہ نفس لوامہ ہو جتا ہے جس کو یہ شرف حاصل ہے کہ خدا تعالیٰ بھی اس کی قسم کھاتا ہے ۳؎۔ یہ کوئی چھوٹا شرف نہیں ہے۔پس حقیقی تقویٰ اور طہارت کے حاصل کرنے کے واسطے اول یہ ضروری شرط ہے کہ جہاں تک بس چلے اور ممکن ہو تدبیر کرو اور بدی سے بچنے کی کوشش کرو۔بد عادتوں اور بد صحبتوں کو ترک کر دو۔ان مقامات کو چھوڑ دو جو اس قسم کی تحریکوں کا موجب ہو سکٰں جس قدر دنیا میں تدابیر کی راہ کھلی ہے اس قدر کوشش کرو اور اس سے نہ تھکو نہ ہٹو۔ دوسرا ذریعہ دعا دوسرا طریق حقیقی پاکیزگی کے حاصل کرنے اور خاتمہ بالخیر کے لیے جو خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے ؎ٰوہ دعا ہے اس لیے جس قدر ہو سکے دعا کرو۔یہ طریق بھی اعلیٰ درجہ کا مجرب ارو مفید ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے خود وعدہ فرمایا ہے۔ اد عونی استجب لکم (المومن : ۶۱) تم مجھ سے دعا کرو میں تمہارے لیے قبول کروں گا۔دعا ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کو فخر کرنا چاہیے ۔۲؎دوسری قوموں کو دعا کی کوئی قدر نیں اور نہ انہیں اس پاک طریق پر کوئی فخر اور ناز ہو سکتاہے۔بلکہ یہ فخر اور ناز صرف اسلام ہی کو ہے دوسرے مذاہب اس سے بکلی بے بہرہ ہیں۔مثلا عیسائیوں نے جب یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک انسان (جس کو انہوں نے خدا مان لیا) نے ہمارے لیے قربانی دے دی ہے۔انہوں