ایک اُمنگ اور جوش ہوتا ہے۔اس زمانہ میں کوشش کرنا عقلمند کا کام ہے اور عقل اسی لیے اﷲ تعالیٰ نے دی ہے ۲؎
پہلا ذریعہ تدبیر
اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے (جیسا کہ میں پہلے کئی مرتبہ بیان کر چکا ہوں) اول ضروری ہے کہ انسان دیدہ دانستہ اپنے آپ کو گناہ کے گڑھے میں نہ ڈالے ورنہ وہ ضرور ہلاک ہوگا۔جوشخص دیدہ دانستہ بدراہ اختیار کرتا ہے یا کنوئیں میں گرتا ہے اور زہر کھاتا ہے وہ یقینا ہلاک ہوگا۔ایسا شخص نہ دنیا کے نزدیک اور نہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک قابل رحم ٹھہرسکتا ہے اس لیے یہ ضروری اور بہت ضروری ہے خصوصاً ہماری جماعت کے لیے (جس کو اﷲ تعالیٰ نمونہ کے طور پر انتخاب کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ آنیوالی نسلوں کے لیے ایک نمونہ ٹھہرے) کہ جہانتک ممکن ہے بد صحبتوں اور بد عادتوں سے پرہیز کریں ؎ٰ۔ اور اپنے آپ کو نیکی کی طرف لگائیں۔اس مقصد کے حاصل کر نیکے واسطے جہانتک تدبیر کا حق ہے تدبیر کرنی چاہیے اور کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرنا چاہیے۔
یاد رکھو تدبیر بھی ایک مخفی عبادت ہے اس کو حقیر مت سمجھو۔اسی سے وہ راہ کھل جاتی ہے جو بدیوں سے نجات پانے کی راہ ہے۔جو لوگ بدیوں سے بچنے کی تجویز اور تدبیر نہیں کرتے ہیں وہ گویا بدیوں پر راضی ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر خدا تعالیٰ اُن سے الگ ہو جاتا ہے ۲؎۔