ہر شخص بدھے انسان کو دیکھتا ہے کہ وہ کیسا از خود فتگی کا زمانہ ہے ۲؎۔ کوئی بات چشم دید کی طرف سمجھ میں نہیں آتی ہے۔اس لیے ان لوگوں پر خدا تعالٰی کا بڑا ہی فضل ہوتا ہے۔جو ابتدائی زمانہ میں اس زمانہ کے لیے سعی کرتے ہیں۔اور اس زمانہ میں ان کے لیے وہی تقویٰ اور خدا تعالیٰ کی بندگی لکھی جاتی ہے۔ غرض آخر وہی ایک زمانہ جو جوانی کے جذبات اور نفس امارہ کی شوخیوں کا زمانہ کچھ کام کرنے کا زمانہ ہے۔اس لیے اب سوچنا چاہیے کہ وہ کیا طریق ہے جس کو اختیار کرکے انسان کچھ آخرت کے لیے کما سکے۔
خاتمہ بالخیر کے حصول کے تین ذرائع
اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ زمانہ جو شباب اور جوانی کا زمانہ ہے ایک ایسا زمانہ ہے کہ نفس امارہ نے اس کو ردی کیا ہوا ہے لیکن اگر کوئی کار آمد ایام ہیں تو یہی ہیں۔ حضرت یوسف ؑ کی زبانی قرآن شریف میں درج ہے۔
وما ابری نفسی انا النفس لا مارۃ بالسوء الا ما رحم ربی (یوسف : ۵۴)
یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہرا سکتا کیونکہ نفس امارہ بدی کی طرف تحریک کرتا ہے۔اس کی اس قسم کی تحریکوں سے وہی پاک ہو سکتا ہے جس پر میرا رب رحم کرے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ کی بدیوں اور جذبات سے بچنے کے واسطے نری کوشش ہی شرط نہیں بلکہ دعائوں کی بہت بڑی ضرورت ہے نرا زُہد ظاہری ہی (جو انسان اپنی سعی اور کوشش سے کرتا ہے) کار آمد نہیں ہوتا جبتک خدا تعالیٰ کا فضل اور رحم ساتھ نہ ہو اور اصل تو یہ ہے کہ اصل زہد اور تقویٰ تو ہے ہی وہی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔حقیقی پاکیزگی اور حقیقی تقویٰ اسی طرح ملتا ہے؛ ورنہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ بہت سے جامے بالکل سفید ہوتے ہیں اور باوجود سفید ہونے کے بھی وہ پلید ہو سکتے ہیں تو اس ظاہری تقویٰ اور طہارت کی ایسی ہی مثال ہے؎ٰ؛ تاہم اس حقیقی پاکیزگی اور حقیقی تقویٰ ارو طہارت کے حصول کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسی زمانہ شباب و جوانی میں انسان کوشش کرے جبکہ قویٰ میں قوت اور طاقت اور دل میں