قابل نہیں رہتا ۲؎۔ حواس باطنی میں جس طرح اس وقت فرق آجاتا ہے حواس ظاہی میں بھی معمر ہو کر بہت کچھ فتور پیدا ہوجاتا ہے۔بعض اندھے ہو جاتے ہیں۔بہرے ہو جاتے ہیں۔چلنے پھرنے سے عاری ہ جاتے ہیں اور قسم قسم کی مصیبتوں اور دکھوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔غرض یہ زمانہ بھی بڑا ہی ردی زمانہ ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی زمانہ ہے جو ان دونوں کے بیچ کا زمانہ ہے یعنی شباب کا جب انسان کوئی کام کر کستا ہے،کیونکہ اس وقت قویٰ میں نشونما ہوتا ہے اور طاقتیں آتی ہیں،لیکن یہی زمانہ ہے جبکہ نفس امارہ ساتھ ہوت اہے اور وہ اس پر مختلف رنگوں میں حملے کرتا ہے اور اپنے زیر اثر رکھنا چاہتا ہے۔یہی زمانہ ہے جو مؤاخذہ کا زمانہ ہے اور خاتمہ بالخیر کے لیے کچھ کرنے کے دن بھی یہی ہیں،لیکن ایسی آفتوں میں گھرا ہوا ہے کہ اگر بڑی سعی نہ کی جاوے تو یہی زمانہ ہے جو جہنم میں لے جائے گا اور شقی بناوے گا۔ہاں اگر عمد گی اور ہوشیاری اور پوری احتیاط کے ساتھ اس زمانہ کو بسر کیا جاوے تو اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید ہے کہ خاتمہ بالخیر ہو جاوے کیونکہ ابتدائی زماہ تو بے خبری اور غفلت کا زمانہ ہے۔اﷲ تعالیٰ اس کا مؤاخذہ نہ کرے گا۔جیسا کہ اس نے خود فرمایا لا یکلف اﷲ نفسا الا وسعھا (البقرۃ : ۲۸۷) اور آخری زمانہ میں گوبڑھاپے کی وجہ سے سستی اور کاہلی ہوگی،لیکن فرشتے اس وقت اس کے اعمال میں وہی لکھیں گے جو جوانی کے جذبات اور خیالات ہیں۔جوانی میںا گر نیکیوں کی طرف مستعد ارو خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والا ،اس کے احکام کی تعمیل کرنے والا اور نواہی سے بچنے والا ہے تو بڑھاپے میں گو ان کے اعمال کی بجا آوری میں کسی قدر سستی بھی ہو جاوے لیکن اﷲ تعالیٰ اسے معذور سمجھ کر ویسا ہی اجر دیتا ہے ؎ٰ۔