اس پر حضور نے فرمایا : کبھی چڑیا خانہ گئے ہو؟ میں کہا کہ ہاں۔ فرمایا : دیکھو وہاں شیر‘ چیتے اور دوسرے حیوانات ہوتے ہیں۔کبھی یہ خیال وہاں جا کر دل میں آسکتا ہے کہ ان کے سامنے لمبی لمبی نمازیں پڑھیں؟ کبھی یہ خیال وہاں جا کر ریاکار سے ریاکار کے دل میں بھی نہیں آسکتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خوب جانتا ہے کہ یہ حیوانات ہماری جنس سے تو نہیں ہیں تو پھر ریاکہاں رہی؟ ریا تو ہم جنسوں سے ہوتی ہے تو اہل اﷲ کس سے ریا کریں۔اُن کے سامنے دوسرے لوگوں کی وہی مثال ہے جیسے چڑیا خانہ میں جانور بھرے ہوئے ہیں۔ اپنے الہامات پر کامل ایمان مولانا موصوف۔ نے ف رمایا کہ ایک دن کی مجھے بات یاد ہے کہ کسی نے ذکر کیا کہ منشی الٰہی بخش اور اس کا ترجمان منشی عبد الحق کہتا ہے کہ الہام وہ ہے جو پورا ہو جاوے اور جو نہ ہووے وہ شیطانی کام ہے۔حضرت نے فرمایا کہ : مکہ معظمہ میں داخل ہو کر اگر خدا تعالیٰ کی قسم دی جاوے تو میں کہوں گا کہ میرے الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔جس شخص نے خیالی طور پر دعویٰ کیا ہو وہ ہر گز یہ جرأت نہین کر سکتا۔کبھی وہ شخص جو کامل یقین رکھتا ہو اور وہ جو مشکوک ہے برابر ہو سکتے ہیں؟ عہد دوستی مولانا موصوف نے کاہ کہایک دفعہ حضرت اقدس نے خاص طو رپر مجھے مخاطب کر کے فرمایا : ’’میرے خلق کی پیروی کر‘‘ میں نے عرض کی کہ دعا کریں۔فرمایا کہ : اگر کسی نے ایک بار میرے عہد دوستی باندھا ہو تو مجھے اس قدر اس کی رعایت ہوتی ہے کہ اگر اُس نے شراب پی ہوئی ہو تو بھی میں بلاخوف لَوْمَتَہ لَائم اُسے اُٹھالائوں گا۔یعنی جب تک وہ خود ترک نہ کرے ہم خود نہ چھوڑیں گے۔پس اگر کوئی اپنے بھائیوں کو ترک کرے گا۔ وہ سخت گنہگار ہوگا۔ اشداء علی الکفار مولانا موصوھ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اقدس نے فرمایا کہ :