کرتے وقت ساتھ تصویریں بھیج دیں، کیونکہ ان لوگوں کا عام مذاق اس قسم کا ہوگیا ہے کہ وہ جس چیز کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اس کی تصویر دیتے ہیں جس سے وہ قیافہ کی مدد سے بہت سے صحیح نتائج نکال لیتے ہیں۔مولوی جو میری تصویر پر اعتراض کرتے ہیں۔وہ خود اپنے پاس روپیہ پیسہ کیوں رکھتے ہیں کیا ان پر تصویریں نہیں ہوتی ہیں۔
اسلام ایک وسیع مذہب ہے۔اس میں اعمال کا مدار نیات پر رکھتا ہے۔بدر کی لڑائی میں ایک شخص میدان جنگ میں نکلا جو اترا کر چلتا تھا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دیکھو یہ چال بُری ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
ولا تمش فی الارض مرحا۔ (بنی اسرائیل : ۳۸)
مگراس وقت یہ چال خدا تعالیٰ کو بہت ہی پسند ہے کیونکہ یہ اس کی راہ میں اپنی جان تک نثار کرتا ہے اور اس کی نیت اعلیٰ درجہ کی ہے۔
غرض اگر نیت کا لحاظ نہ رکھا جائے تو بہت مشکل پڑتی ہے۔اسی طرح پر ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جن کاتہ بند نیچے کو ڈھلکتا ہے وہ دوزخ میں جاویں گے۔حضرت ابو بکر ؓ یہ سن کر رو پڑے کیونکہ اُن کا تہ بند بھی ویسا تھا۔آپؐ نے فرمایا کہ تُو اُن میں سے نہیں ہے۔غرض نیت کو بہت بڑا دخل ہے اور حفظ مراتب ضروری شئے ہے۔
منشی نظیر حسین صاحب : میں خود تصویر کشی کرتا ہوں۔اس کے لیے کیا حکم ہے؟
فرمایا :
اگر کفر اور بُت پرستی کو مدد نہیں دیتے۔تو جائز ہے۔آخکل نقوش و قیافہ کا علم بہت بڑھا ہوا ہے۔؎ٰ
بلا تاریخ
اہل اﷲ اور ریا
حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں نے حضرت مسیح موعودؑ سے پوچھا کہ کیا کبھی ممکن ہو سکتا ہے کہ آپ میں بھی ریا آوے؟