مومن مومن کبھی نہیں ہو سکتا جب تک کہ کفر اس سے مایوس نہ ہو جاوے۔فتح مسیح کو ایک بار ہم نے رسالہ بھیجا۔اس پر اُس نے لیکریں کھینچ کر واپس بھیج دیا اور لکھا کہ جس قدر دل آپ نے دکھایا ہے کسی اور نے نہیںدکھیا۔دیکھو رسول کریم ﷺ کے دشمن نے خود اقرار یکر لیا کہ ہامرا دل دکھا۔پس ایسی مضبوطی ایمان میں پیدا کرو کہ کفر مایوس ہو اجوے کہ میرا قابو نہیں چلتا۔ اشد اء علی الکفار کے یہ معنی بھی ہیں۔ قبولیت دعا کی شرط طاعون کا ذکر تھا۔کثرت اموات پر ذکر کرتے کرتے فرمایا : دعائیں کرتے رہو۔بجز اس کے انسان مکر اﷲ سے بچ نہیں سکتا۔مگر دعائوں کی قبولیت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرے۔اگر بدیوں سے نہیں بچ سکتا اور خدا تعالیٰ کی حدود کو توڑتا ہے‘ تو دعائوں میں کوئی اثر نہیں رہتا۔ خدا تعالیٰ کی شناخت کا وقت فرمایا : اس وقت دنیا میں خدا تعالیٰ کا وجود ثابت ہو رہا ہے؛ اگر چہ لوگ برائے نام خدا تعالیٰ کے قائم، مگر اصل بات یہ ہے کہ ایک قسم کی دہریت پھیل رہی تھی اور خدا تعالیٰ سے بکلی دور جا پڑے ہیں مگر اب وقت آگیا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کو شناخت کریں۔خدا تعالیٰ کے اوامر و نواہی کو توڑنا اس سے بڑھ کر خباثت کیا ہوگی۔یہ تو اس کا مقابلہ ہے۔؎ٰ ۲۰؍مئی ۱۹۰۴ء؁ بمقام گورداسپور نومبائعین کو نصائح بعد نماز عصر حیدر آباد دکن کے چند احباب نے بیعت کی۔بیعت کے بعد تقریری کرتے ہوئے حضور ؑ نے فرمایا : آپ نے جو مجھ سے آج تعلق بیعت کیا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ کچھ بطور نصیحت چند الفاظ تمہیں کہوں۔