کے بعد پھر لا علمی آجاتی ہے اور حواس میں اور دوسرے قویٰ میں فتور آنے لگتا ہے۔یہ پیرانہ سالی کا زمانہ ہے۔بہت سے لوگ اس زمانہ میں بالکل حواس باختہ ہو جاتے ہیں اور قویٰ بیکار ہو جاتے ہیں۔اکثر لوگوں میں جنون کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔ایسے بہت سے خاندان ہیں کہ ان میں ساٹھ یا ستر سال کے بعد انسان کے حواس میں فتور آجاتا ہے۔غرض اگر ایسا نہ بھی ہو تو بھی قویٰ کی کمزوری اور طاقتوں کے ضائع ہو جانے سے انسان ہوش میں بے ہوش ہوتا ہے؎ٰ اور ضعف وتکاہل اپنا اثر کرنے لگتا ہے۔انسان کی عمر کی تقسیم انہیں تین زمانوں پر ہے اور یہ تینوں ہی خطرات اور مشکلات میں ہیں۔پس اندازہ کرو کہ خاتمہ بالخیر کے لیے کس قدر مشکل مرحلہ ہے۔
بچپن کا زمانہ تومجبوری کازمانہ ہے۔اس میں سوائے لہو،لعب اور کھیل کود اور چھوٹی چھوٹی خواہشوں کے اور کوئی خواہش ہی نہیں ہوتی۔ساری خواہشوں کا منتہا کھانا پینا ہی ہوتا ہے۔دنیا اور اس کے حالات سے محض نا واقف ہوتا ہے۔امور آخرت سے بکلی نا آشنا اور لاپروا ہوتا ہے۔عظیم الشان امور کی اسے کوئی خبر ہی نہیں ہوتی۔ وہ نہیں جانتا کہ دنیا میں اس کے آنے کی کیا غرض اور مقصد ہے۔یہ زمانہ تو یوں گذر گیا۔اس کے بعد جوانی کا زمانہ آت ہے۔کچھ شک نہیں کہ اس زمانہ میں اس کے معلومات بڑھتے ۔ہیں اور اس کی خواہشوں کا حلقہ وسیع ہوتا ہے، مگر جوانی کی مستی اور نفس امارہ کے جذبات عقل ماردیتے ہیں اور ایسی مشکلات میں پھنس جاتا ہے اور ایسے ایسے حالات پیش آتے ہیں کہ اگر ایمان بھی لاتا ہے تب بھی نفس امارہ اور اس کے جذبات اپنی طرف کھینچتے ہیں اور اُسے ایمان ارو اس کے ثمرات سے دور پھینک دینے کے لیے حملے کرتے ہیں۔اس کے بعد جو پیرانہ سالی کا زمانہ ہے وہ تو بجائے خود ایسا نکما اور ردی ہوتا ہے۔جیسے کسی چیز سے عرق نکال لیا جاوے اور اس کا پھوک باقی رہ جاوے۔اسی طرح پر انسانی عمر کا پھوک بڑھاپا ہے۔انسان اس وکت نہ دنیا کے لائق رہتا ہے اور نہ دین کے۔مخبوط الحواس اور مضمحل سا ہو کر اوقات بسر کرتا ہے۔قویٰ میں وہ تیزی اور حرکت نہیں ہوتی جو جوانی میں ہوت ہے اور بچپن کے زمانہ سے بھی گیا گذرا ہو جاتا ہے۔بچپن میں اگر چہ شوخی،حرکت اور نشونما ہوتا ہے،لیکن بڑھاپے میں یہ باتیں نہیں۔نشو نما کی بجائے اب قویٰ میں تحلیل ہوتی ہے اور کمزوری کی وجہ سے سستی اور کاہلی پیدا ہونے لگتی ہے۔
بچہ اگر چہ نماز اور اس کے مراتب اور ثمرات اور فوائد سے ناواقف ہو گا یا ہوتا ہے۔لیکن اپنے کسی عزیز کو دیکھ کر ریس اور امنگ ہی پیدا ہو جاتی ہے،مگر اس پیرانہ سالی کے زمانہ میں تو اس کے بھی