۲۹؍دسمبر ۱۹۰۴ء؁ تقریر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام برموقعہ جلسہ سالانہ ۲۹؍دسمبر ۱۹۰۴ء؁ بعد نماز ظہر بمقام مسجد اقصیٰ خاتمہ بالخیر کی کوشش کریں میری طرف سے اپنی جماعت کو بار بار وہی نصیحت یہ جو میں پہلے بھی کئی دفعہ کر چکا ہوں کہ عمر چونکہ تھوڑی ؎ٰ اور عظیم الشان کام درپیش ہے،اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ خاتمہ بالخیر ہو جاوے۔ خاتمہ بالخیر ایسا امر ہے کہ اس کی راہ میں بہت سے کانٹے ہیں۔جب انسان دنیا میں آیتا ہے تو کچھ زمانہ اس کا بے خوشی میں گذرجاتا ہے۔یہ بے ہوشے کا زمانہ وہ ہے جبکہ وہ بچہ ہوتا ہے اور اس کو دنیا اور اس کے حالات سے کوئی خبر نہیں ہوتی ۔اس کے بعد جب ہوش سنبھالتا ہے توایک ایسا زمانہ آتا ہے کہ وہ بے ہوشی تو نہیں ہوت جو بچپن میں تھی۔ لیکن جوانی کیایک مستی ہوتی ہے جو اس ہوش کے دنوں میں بھی بے ہوشی پیدا کر دیتی ہے اور کچھ ایسا از خود رفتہ ہوجاتا ہے کہ نفسِ امارہ غالب آجاتا ہے۔اس کے بعد پھر تیسرا زمانہ آتا ہے ۲؎ کہ علم