ضرور نقص ہوتا ہے)بہر حازل یہ ایک عجیب نکتہ ہے۔اس بحث کو حصرت مسیح موعود ؑ نے بھی دل چسپی سے سنا اور پھر خوراک کا انتظام ایک خاص صاحب کے سپرد فرماکر زبان مبارک سے ارشاد فرمایا کہ :
یہ سب لوگ سنتے ہیں اور گواہ ہیں کہ ہم نے اب تم کو ذمہ دار بنادیا ہے۔اب اس کا ثواب یاعذاب تمہاری گردن پر ہے۔ ۲؎
۲۰؍دسمبر ۱۹۰۴ء
بوقت ظہر
اپنے نیک انجام پر پختہ یقین
ظہر کے وقت حضرت اقدسؑ تشریف لائے۔مقدمہ کے ذکر پر فرمایا کہ :
خواہ کچھ ہی ہو ہم تو سب کچھ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں اور اس پر راضی ہیں۔
ہر چہ از دوست می رسد نیکوست
لیکن ہمارا ایمان جیسے خدا تعالیٰ کے ملائکہ اور کتب اور رسل پر ہے ایسے ہی اس بات پر بھی ہے ہ انجام کا رہم ہی کامیاب ہوں گے؛ اگر چہ ایک دنیا ہماری مخالف کیوں نہ ہو۔
آج کل کے عقلمندوں کے نزدیک تو کسی کو اپنا دشمن بنانا غلطی ہے۔لیکن سچ پوچھو تو یہ بھی حقانیت کی ایک دلیل ہے۔آنحضر ﷺ نے کسی ایک سے بھی نہ رکھی۔سب سے بگاڑلی۔ان لوگوں کے نزدیک تو نعوذ باﷲ آپؐ نے غلطی کی حالانکہ محض خدا تعالیٰ کے لیے سب س یبگاڑ لینا آپ کی صداقت کا بیّن ثبوت ہے کہ جس سے آپؐ کی قوتِ ایمانی کا حال معلوم ہوتا ہے۔ایک طرف مسیح ؑ کو دیکھو کہ اس کی تعلیم سے جو کہ انجیلوں میں پائی جاتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مشرب کسی کو ناراض کرنے کا ہرگز نہیں تھا۔یہودیوں کو سنایا گیا کہ میں توریت کا ایک شوشہ تک زیروزبر کرنے نہیں آیا۔اس فقرہ سے ظاہر ہے کہ اُن کی خوشامد مد نظر تھی۔برخلاف اس کے آنحضرت ﷺ کی تعلیم کو دیکھ اجاوے تو کوئی بھی فرقہ اور مچہب روئے زمین پر ایسا نظر نہ آوے گا جس کو آپؐ نے دعوت نہ کی ہو اور جس کی غلطی نہ نکالی ہو (اور پھر ہر ایک