ہے اس لیے فرمایا ؎ٰ) کیونکہ اگر اس کے التواسے کسی آدمی کی جان چلی جاوے تو یہ سخت معصیت ہوگی۔احادیث میں آیا ہے کہ نماز میں ثل کر درواز کھول دیا جاوے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ایسے ہی اگر لڑکے کو کسی خطرہ کا اندیشہ ہو یا کسی موذی جانور سے جو نظر پڑتا ہو ضرر پہنچتا ہو تو لڑکے کو بچانا اور جانور کو مار دینا اس حال میں کہ نماز پڑھ رہا ہے گناہ نہیں ہے اور نماز فاسد نہیں ہوتی، بلکہ بعصوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ گھوڑا کُھل گیا ہو تو اُسے باندھ دینا بھی مفسد نماز نہیں ہے۔کیونکہ وقت کیاندر نماز تو پھر بھی پڑھ سکتا ہے۔ ۲؎
نوٹ:- یاد رکھنا چہایے کہ اشد ضرورتوں کے لیے نازک مواقع پر یہ حکم ہے۔یہ نہیں کہ ہر ایک قسم کی رفع حاجب کو مقدم رکھ کر نماز کی پروا نہ کی جاوے اور اسے بازیچۂ طفلاں بنا دیا جاوے ورنہ نماز اشغال کی سخت ممانعت ہے اور اﷲ تعالیٰ ہر ایک دل اور نیت کو بخوبی جانتا ہے۔ ؎ٰ
۱۹؍دسمبر ۱۹۰۴ء
بوقت ظہر
مریدان باصفا کی خاطر داری
حضرت اقدس بوقت ظہر تشریف لائے اور مولانا حکیم نورالدین صاحب کی علالت طبع کا حال خود ان سے دریافت کیا۔غذا کے انتظام کے لیے تاکید فمائی۔حضرت مولوی صاحب نے عرض کی کہ ہر چند کوشش کی جاتی ہیمگر قدرت کی طرف سے کچف ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں کہ جس سے یہ انتظام قائم نہیں رہتا۔شاید ارادۂ الٰہی ابھی اس امر کا خواہاں نہیں ہے کہ آرام ہو۔
اس اثناء میں ایک صاحب جن کو حکیم صاحب موصوف سے نہایت محبت اور اخلاص اور نیاز مندی کا تعلق ہے بول اُٹھے کہ آخر تدبیر کرنی چاہیے۔قرآن شریف میں آیا ہے
فالمد برات امرا (النزعات : ۶)
حکیم صاحب نے ایک لطیف عارفانہ جواب یہ دیا کہ یہاں صیغہ مؤنث کا استعمال ہوا ہے فالمدبرون امرا۔ نہیں ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ اس کا بڑا تعلق اناث سے ہے (اور اس میں