ہانڈی میں جب ابال ئت ہے تو پھر بہت جلدی بیٹھ جایا کرتا ہے۔یہی حالت ان لوگوں کی ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اسلام جیسا مذہب جس خدا نے پیش کیا ہے اُس کے مقابل پر اور بی کوئی خدا مانا جا سکتا ہے۔
اسلام کا خدا کل کمالات ک مالک ہے اور جبکہ روح اور اس کے خواص سب خود بخود ہیں تو پھر وہ خدا کو کہہ سکتی ہے کہ تیرا مجھ پر کیا حق ہے جو تو مجھ کو کسی قسم کی سزا دے سکے۔خدا شناسی میں ان لوگوں کی حالت دہریوں سے ملتی ہے اور نیوگ میں تو کنجروں کو مات کر دیا ہے۔
انہوں نے ہر ایک بات پر اعتراض کا ٹھیکہ لے لیا ہے؛ حالانکہ ایک عارف آدمی اس بات کا ہرگز قائل نہ ہوگ اکہ کل اسرارِ الوہیت کو کوئی سمجھ سکتے مثلاً اس قدر جو مخلوقات موجود ہے اور قسم قسم کے پتھر ، بوٹیاں اور اشیاء ہیں کیا کوئی دعوٰی کر سکت اہے کہ میں نے ہر ایک کے خواص پر احاطہ کر لیا ہے اور جو کچھ میں نے معلوم کیا ہے اس سے بڑھ کر اب اور کوئی حکمت الٰہی اس میں ہر گز نہیں ہے۔اس لیے حق کے طالب کو چاہیے کہ وہ بات جس سے ایمان وابستہ ہوتا ہے اختیار کرے اور اُسے سمجھے اور دوسری باتوں کے لیے اپنے نقص عقل کو تسلیم کرے۔جوں جوں خدا تعالٰٰ بصیرت دے گا توں توں اس کا علم بڑے گا۔یہ نادانی ہے کہ انسان کے جسم کے اندر جس قدر قویٰ ہیں ان کی حکمت اور خواص پر تو نظر نہ کی جاوے اور بالوں کے ٹیڑھے ہونے یا اور اس قسم کی باتوں پر اعتراض کیا جاوے؎ٰ۔
۲۹؍نومبر ۱۹۰۴ء
کسی اہم کام کے لیے نماز توڑنا
افریقہ سے ڈاکٹر محمد علی خاں صاحب نے استفسار کیا کہ اگر ایک احمدی بھائی نماز پڑھ رہا ہو اور باہر سے اس کا افسر آجاوے اور دروازہ کو ہلا ہلا کر اور ٹھونک ٹھونک کر پکارے اور دفتر یادوائی خانہ کی چابی مانگے تو ایسے وقت میں اسے کیا کرنا چاہیے۔اسی وجہ سے ایک شخص نوکری سے محروم ہو کر ہندوستان واپس چلا گیا ہے۔
جواب :- حضرت اقدس نے فرمایا کہ :
ایسی صورت میں ضروری تھا کہ وہ دروازہ کھول کر چابی افسر کو دے دیتا (یہ ہسپتال کا واقعہ