ہوا۔ حتیٰ کہ میں نے چلنے پھنے کے قابل پانے آپ کو پایا اور پھر گھر کے آدمیوں کولے کر باغ تک چلا گیا اور وہان دس رکعت اشراق نماز کی ادا کیں۔ صفاتِ باری تعالیٰ خدا تعالیٰ کی ان صفأت رب، رحمٰن، رحیم،مالک یوم الدین پر توجہ کی جواے تو معلوم ہوت اہیکہ کہ کیسا عجیب خد اہے۔پھر جن کا رب ایسا ہو گیا وہ کبھی نامراد اور محروم رہ سکتا ہے؟ رب کے لفظ سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ دوسرے عالم میں بھی ربوبیت کام کرتی رہے گی۔ جہاں اسباب غیر مؤثر معلوم ہوں وہاں دعا سے کام لے؎ٰ۔ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۴ء؁ بوقت ظہر ایک الہام اور ایک رؤیاء حضرت اقدس علیہ السلام نے ذیل کی رؤیا سنائی میں نے ایک سفید تہہ بند باندھا ہوا ہے مگر وہ بالکل سفید نہیں ہے۔کچھ کچھ میلا ہے کہ اس اثناء میں مولوی صاحب نماز پڑھانے لگے ہیں اور اُنہوں نے سورہ الحمد جہر سے پڑھی ہے اور اس کے بعد اُنہوں نے یہ پڑھا۔ الفارق واما ادرک ما الفارق اس وقت مجھے یہی معلوم ہوا کہ قرآن شریف میں سے ہی ہے۔اور ایک اور الہام ہوا : روز نقصاں بر تو نہ آید آریہ مذہب اور اس کے عقائد حضرت حکیم نورالدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کی۔بعض آریوں نے بہت ہی گندے کلمات قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ کی شان میں لکھے ہیں۔فرمایا کہ