اور اس ایمان والے کے شیطان قریب بھی نہیں آتا۔وہ بھی تو وہا ں ہی جاتا ہے جہاں اُس کو تھوڑی سی گنجائش مل جاتی ہے۔جب خدا تعالیٰ کو مقدم رکھ اجائے تو برکات کا نزول ہوتا ہے۔ہر کسی دوست سے اگر تم دادنیٰ باتوں میں بد عہدی اور جھوٹ اور عہد شکنی سے کام لو تو وہ تمہیں کبھی عزیز نہیں رکھے گا۔پھر وہ تو رب العالمین اور احکم الحاکمین اور رب العزت ہے۔ ولنبلونکم بشیج من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرت (البقرۃ : ۱۵۶) یعنی ثمرات سے مراد اولاد ہے اور یہ خد اکی طرف سے ابتلا ء ہوتے ہیں اور یہی انسان کا امتحان ہوت اہے۔ہان یہ باتیں اور کامل ایمان حاصل ہوت اہے توبہ استغفار سے۔اس کی کثرت کرو۔اور ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین ۔ (الاعراف : ۲۴) پڑھا کرو اور اس کی کثرت کرو۔خد اتعالیٰ تعم البدل عطا کرے گا۔خدا کا دامن نہ چھوڑنے والا گنہگار ہو کر بھی بخشا جاتا ہے۔ہاں تعلق توڑنا بری بات ہے اور یہ زہر قاتل ہے۔پس توبہ استغفأر کرو اور نمازوں میں دعائیں کرتے رہو۔اﷲ تعالٰٰ تمہارا پروردگار ہو؎ٰ۔والسلام۔ بلاتاریخ شہد اور ذیابیطس ذیابیطس کی مرض کا ذکر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ : اس سے مجھے سخت تکلیف تھی۔ڈاکٹروں نے اس میں شیر ینی کو سخت مضر بتلایا ہے۔آج میں اس پر غور کر رہا تھا تو خیال آیا کہ بازار میں جوشکر وغیرہ ہوتی ہے اسے تو اکثر فاسق فاجر لوگ بناتے ہیں اگر اس سے ضرر ہوتا ہے تو تعجب کی بات نہیں۔مگر عسل (شہد) تو خدا تعالیٰ کی وحی سے تیار ہوا ہے۔اس لیے اس کی خاصیت دوسری شیر ینیوں کی سی ہرگز نہ ہوگی۔اگر یہ ان کی طرح ہوت اتو پھر سب شیرینی کی نسبت شفاء لناس۔ فرمایا جاتا۔مگر اس میں صرف عسل ہی کو خاص کی اہے۔پس یہ خصوصیت اس کے نفع پر دلیل ہے اور چونکہ اس کی تیاری بؓریاہ وہی کے ہے اس لیے مکھی جو پھولوں سے رس چوستی ہوگی تو ضرور مفید اجزاء کو ہی لیتی ہوگی۔اس خیال سے میں نے تھوڑے سے شہد میں کیوڑا ملا کر اُسے پیا تو تھوڑی دیر کے بعد مجھے بہت فائدہ حاصل