غلو کرکے اور آسمان پر بٹھاکر مغضوب ہوئے۔پس صرف مسیح کا وجود ہی اس قسم کا ہے کہ جس کا دوست بھی جہنم میں اور دشمن بھی جہنم میں ۔اس قسم کا ابتلاء کسی اور نبی کے وجدو کے ساتھ نہیں ہے۔؎ٰ ۱۱؍نومبر ۱۹۰۴ء؁ ایک شخص کی طرف سے رقعہ پیش کیا گیا کہ یہ مولوی صاحب ہیں اور ان کا لڑکا فوت ہو گیا ہے۔ان کو ہستی باری تعالیٰ پر شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔یہ اپنی اصلاح کی تدبیر دریافت کرتے ہیں۔ فرمایا : ان کی بے قراری کو اﷲ تعالیٰ دور کرے۔دیکھو اگر کسی شخص کے سامنے دو بچے ہوں۔ایک تو کسی اجنبی کا ہو اور دوسرا اس کا اپنا پیارا ۔تو کیا وہ اس اجنبی بچہ کی خاطر اپنے بچہ سے محبت چھوڑ دے گا۔ نہیں بلکہ ہرگز نہیں۔پس جب انسان مسلمان کہلاتا ہے جس کے معنی ہیں بالکل خد اکا ہوجانا اور کسی حالت میں اس سے بے وفائی نہ کرنا۔پھر اولاد کے حق میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے : ان من ازواجکم و اولادکم عدو الکم فاحذروھم (التغابن : ۱۵) انما اموالکم واولادکم فتنۃ (التغابن : ۱۶) کہ مال اور اولاد تمہاری دشمن ہیں۔ان سے ڈرتے رہو۔کیونکہ اگر زندہ رہے تو ممکن ہے کہ نافرمان ہو۔مرتد ہو جاوے۔بدکار ہو،چور یا ڈاکو بن جاوے۔مر جاوے تو پھر ویسے ابتلا آجاتا ہے۔پس ہر حالت میں موجب فتنہ اور ابتلاء ہوتی ہے مگر جب مومن کو خد اتعالیٰ سے تعلق ہوتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے کہ اگر یہ بچہ مر گیا ہے تو کیا ہوا۔اﷲ تعالیٰ نے جو حکم دیاہے۔ ماننسخ من ایۃ او ننسھا نات بخیر منہا اومثلھا (البقرہ : ۱۰۷) دیکھو آنحضرت ﷺ کے ۱۲ بچے فوت ہوئے۔ایمان تو وہ ہوتا ہے جس میں لغزش نہ ہو اور ایسے ایمان والا خدا تعالیٰ کو بہت محبوب ہوتا ہے۔ہاں اگر بچہ خد اسے زیادہ محبوب ہے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسا شخص خد اپر ایمان کا دعویٰ کر سکے۔اور وہ کیوں ایسا دعویٰ کرتا ہے۔ہم نہیں جان سکتے کہ ہماری اولادیں کیسی ہوں گی۔صالح ہوں گی یا بدمعاش ۔اور نہ اُن کے ہم پر کوئی احسان ہیں اور خد اکے تو ہم پر لاکھوں لاکھ احسان ہیں۔پس سخت ظالم ہے وہ شخص کہ اس خدا سے تعلق توڑ کر اولاد کی طرف تعلق لگاتا ہے۔ہان خد اتعالیٰ کے حقوق کے ساتھ مخلوق کے حقوق کا بھی خیال رکھو۔اگر خدا پر تمہار اکامل ایمان ہو تو پھر تو تمہارا یہ مذہب ہونا چا ہیے کہ: ؎ ہر چہ از دوست میر سد نیکوست