وہی فیصلہ ہے جو ایلیا کے حق میں مسیح نے کیا۔
پادری۔ وہ ایلیا تو آچکا۔
حضرت اقدر ؑ۔ میں بھی تو یہی کہتا ہوں کہ آچکا مگر تم یہ بتائو کہ کیا یوحنا کو ایلیاء نہیں بنایا گیا۔اب میرے معاملہ میں آپ کیوں ٹھوکر کھاتے ہیں اور مسیح کے فیصلہ کو حجت نہیں مانتے۔
پادری۔ آپ معاف کریں۔میں جاتا ہوں۔
حضرت اقدس ؑ۔ اچھا۔
اس کے بعد پادری صاحب تشریف لے گئے؎ٰ۔
۵:نومبر ۱۹۰۴ء
بمقام قادیان۔بعد نماز مغرب
طاعون کی شدت طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ :
کسوف اور خسوف کے ساتھ ہی قرآن شریف میں
این المفر (القیامۃ : ۱۱)
آیا ہے جس سے یہی مراد ہے کہ طاعون اس کثرت سے ہوگی کہ کوئی جگہ پناہ کی نہ رہے گی۔میرے الہام میں عفت الدیار محلہا ومقامھا کے یہی معنی ہیں۔
حضرت مسیح علیہ السلام کا وجود باعثِ ابتلاء ثابت ہوا ہے
حضرت مسیح علیہ السلام کے وجود کی نسبت فرمایا کہ :
ان کا وجود دنیا کے لیے ابتلا ء ہی ثابت ہوا ہے۔یعنی ابتلاء اور حضرت مسیح علیہ السلام کے وجود کا گہرا تعلق ہے کیونکہ جو منکر ہوئے وہ بھی دوزخی بنے اور جو ان پر ایماندار ہیں وہ بھی دوزخ کے کنارے ہیں۔جیس یکہ عیسائیون کے عقائد اور عملی حالت سے واضح ہے۔پھر مسلمان بھی ان پر ایمان رکھتے تے وہ بھی