پورے طور پر نہیں کھودا۔اسی طرح جب انسان دعا کرتا ہے اور تھک جاتا ہے تو اپنی نامرادی کو اپنی سستی اور غفلت پر توحمل نہیں کرتا،بلکہ خدا تعالیٰ پر بدظنی کرتا ہے اور آخر بے ایمان ہو جاتا ہے اور آخر دہریہ ہو کر مرتا ہے۔ نیم ملاں خطرۂ ایمان جہاں حضور بیٹھے ہوئے تھے وہاں سامنے ایک آم کا درخت تھا جس کو کچے پھل لگے ہوئے تھے۔ان کو دیکھ کر فرمایا : دیکھو۔اس آم کو پھل لگا ہوا ہے مگر یہ کچا پھل ہے۔اگر کوئی اس کو کھانے بیٹھ جاوے اور اس کو ہی اصل مقصد سمجھ لے تو بجز اس کے کہ اس کے کھانے سے پھنسیاں وغیرہ نکل آویں کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔اسی طرح پر نیم ملاں خطرۂ ایمان والی مثال سچ ہے۔نار سیدہ منزل کچے پھل کی طرح ہوتا ہے۔وہ جو کسی کو بات سنائے گا تو اسے گمراہ کرے گا اور اگر خود کرے گا تو آپ گمراہ ہوگا۔ خدا تعالیٰ کی راہ میں جبتک انسان بہت سی مشکلات اور امتحانات میں پورا نہ اُترے وہ کامیابی کا سرٹیفیکیٹ حاصل نہیں کر سکتا۔اسی لیے فرمایا احسب الناس ان یتر کو اان یقولو اامنا وھم لا یفتنون (العنکبوت : ۳) کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ محض اتنی ہی بات پر راضی ہو جاوے کہ وہ کہدیں کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہ جاویں۔ایسے لوگ جو اتنی بات پر اپنی کامیابی سمجھتے ہیں وہ یاد رکھیں انہی کے لیے دوسری جگہ آیا ہے۔ وما ھم بمومنین (البقرۃ : ۹) اور ایسا ہی ایک جگہ فرمایا : قالت الاعراب امنا۔قل لم تو منو ا ولکن قولو ااسلمنا (الحجرات : ۱۵) یعنی تم یہ نہ کہو کہ ایماندار ہو گئے بلکہ یہ کہو کہ ہم نے مقابلہ چھوڑ دیا ہے اور اطاعت اختیار کر لی ہے۔بہت سے لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کامل ایماندار بننے کے لیے مجہدات کی ضرورت ہے اور مختلف ابتلائوں اور امتحانوں سے ہوکر نکلنا پڑتا ہے ؎ گویند سنگ لعل شود در مقام صبر آرے شود ولیک بخون جگر شود فوٹو گرافی منشی نظیر حسین صاحب نے سوال کیا کہ میں فوٹو کے ذریعہ تصویر اتارا کرتا تھا۔اور دل میں ڈرتا تھا کہ کہیں یہ خلاھ شرع نہ ہو۔لیکن جناب کی تصویو دیک کر یہ وہم جاتا رہا۔فرمایا : انما الاعمال بالنیات ہم نے اپنی تصویر محض اس لحاظ سے اتروائی تھی کہ یورپ کو تبلیغ