پادری۔ میں نے سنا ہے۔سیالکوٹ میں بڑی رونق تھی۔ حضرت اقدس۔ ہاں۔بہت بڑا مجمع تھا۔ پادری۔ آپ لوگوں کو صرف ہدایت دیتے ہیں یا فضل بھی؟ حضرت اقدس۔ میری ہدایت کچھ ثیز نہیں جبتک اس کے ساتھ فضل نہ ہو۔کوئی آدمی کبھی ہدایت نہیں پاسکتا جبتک آسمانی فضل بھی اس کی دستگیری نہیں کرتا ہے۔وہ میری شناخت اُسے عطا کرتا ہے تب وہ میرے پاس آتا ہے اور وہ ہدایت اور معرفت لیتا ہے جو مجھے خدا تعالیٰ نے دی ہے اور پھر اپنے فضل سے دی ہے۔ پادری۔ میں اس فضل کا ذکر نہیں کرتا جو آپ کو ملتا ہے بلکہ میں اس فضل کا ذکر کرتا ہوں جو ان کو ملتا ہے۔ حضرت اقدس۔ میں بھی تو اس فضل کا ذکر کرتا ہوں جو اُن کو ملتا ہے۔ان کو پہلے تو ہ فضل ہی ہے جو میرے پاس لاتا ہے۔پھر جو فضل مجھے دیا جاتا ہے وہی فضل میری صحبت او ر تعلق کی وجہ سے ان میں سرایت کرتا ہے۔جس کدر اعتقاد بڑھے گا اسی قدر یہ لوگ اور ہر ایک مخلص ارادتمند اس فضل کو جذب کرے گ ۔ان لوگوں کا تعالق میرے ساتھ درخت کی شاخوں کی طرح ہے۔جس جس قدر وہ شاخیں ڈریب ہیں اور اپنی سبزی اور زندگی میں تردوتازہ ہیں اسی قدر زیادہ وہ اس غذا کو جو جڑ کے ذریعہ درخت حاصل کرت اہے یہ غذا سے کوئی حصہ نہیں پاسکتی ۔اسی طرح پر شاگرد اور مرید شاخوں کی طرح ہی ہوتے ہٰں۔جس قدر کوئی تعلق، محبت اور حسن ایمان رکھتا ہے اور جس قدر زیادہ صحبت میں رہت اہے اسی کے موافق وہ حصہ پاتے ہیں۔اول فضل خود اس درخت میں بھی ہونا چاہیے۔اگر اس میں کوئی قوت اور روح معرفت کی نہ ہوگی تو وہ دوسروں کو کیا پہنچا سکے گا۔ پادری۔ کس درخت کی شاخ؟ حضرت اقدس۔ وہ درخت جس کو خد الگاتا ہے جو خدا کی طرف سے آتا ہے جیسے میں خدا کی طرف سے آیا ہوں اور خد انے مجھے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ پادری۔ میں آپ کے دعویٰ ک اصل مطلب نہیں سمجھا۔کیا آپ مسیح کہلاتے ہیں؟ حضرت اقدس ؑ۔ تعجب ہے۔میرا دعویٰ تو عرصہ سے شائع ہو رہا ہے اور ولایت اور امریکہ تک لوگوں کو معلوم ہو گیا ہے۔آپ کہتے ہیں میں مطلب نہیں سمجھا۔ہاں میں مسیح کہلاتا ہوں اور خدا نے مجھے مسیح کہا اور مسیح کرکے بھیجا۔