میں کس قدر فرقے ہیں جو ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں اور اصولوں میں بھی متفق نہیں۔مسلمانوں کے فڑقوں میںاگر کوئی اختلاف ہے تو فرد عات اور جزئیات میں ہے۔اصول سب کے ایک ہی ہیں۔ پادری سکاٹ۔ ان عیسائی فرقوں میں سے آپ کس کو حق پر سمجھتے ہیں؟ حضرت اقدس۔ میرے نزدیک تو راستبازوہی فرقہ تھا جو حضرت مسیحؑ اور اُن کے حواریوں کا تھا۔اس کے بعد تو اس مذہب کی مرمت شروع ہو گئی اور کچھ ایسی تبدیلی شروع ہوئی ہ حضرت مسیح کے وقت کی عیسویت اور موجودہ عیسویت میں کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔ پادری۔ اس کی خبر آپ کو کہاں سے ملی؟ حضرت اقدس۔ پیغمبروں کو خد اتعالیٰ ہی سے خبریں ملا کرتی ہیں۔میں بھی خد اہی سے خبریں پاتا ہوں اور اسی پر ایمان لات اہوں۔ پادری۔ اس میں شک نہیں کہ پیغمبروں کو خدا س یہی خبر ملتی ہے۔ اس مقام تک جب پہنچے تو پادری صاحب کی نظر ایڈیٹر الحکم پر پڑی جو اس گفتگو کو قلمبند کر رہا تھا۔پادری صاحب اُسے دیک کر گھبرائے اور بولے کہ یہ کون نوٹ کر رہا ہے۔جب ان کو یہ کہا گیا کہ یہ الحکم اخبار کا ایڈیٹر ہے جو اس سفر میں حضرت کے ساتھ ہے اور حالات سفر قلمبندر کر کے شائع کرے گا تو ادری صاخب بولے میں اب جاتا ہوں یہ تو شائع کر دیں گے۔انہیں کہا گیا کہکیا حرج ہے ۔ دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔مگر ہم سچ کہتے ہٰں اور اس وقت جو لوگ موجود تھے وہ پادری صاحب کی گھبراہت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ہر چند وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح اس سلسلہ کلام کو یہان چھوڑ دیں مگر حاضرین نے انہیں سلسلہ کلام جاری رکھنے پر اصرار کیا اور کہا کہ آپ کو نہیں تو ہم لوگوں کو فائدہ پہنچ جاوے گا۔اس اصرار پر انہوں نے سلسلہ کلام جاری رکھا اور پھر بولے تو یہ بولے: پادری۔ تمہارے بہت سے چیلے ہیں یہ حملہ نہ کر دیں۔ حضرت اقدس۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ خواہ مخواہ ایک قوم پر جس کو نیک ثلنی، انکسار اور تواضع کی تعلیم دی جاتی ہے حملہ کرتے ہیں۔ایسی حالت میں کہ میں ان میں موجود ہوں اور آپ دیکھتے ہیںکہ کووئی ان میں سے بولتا بھی نہیں آپ یہ امید کر سکتے ہیں۔آپ جس طرح چاہیں جو چاہیں مجھ سے پوچھیں ان میں سے کوئی تمہیں مخاطب بی نہیں کرے گا۔ان کو یہ تعلیم نہیں دی جاتی۔ علاوہ ازیں چیلے کا لفظ ٹھیک نہیں ہے گو اس لفظ کے معنی اور مفہوم بُرا نہ ہو۔لیکن ہر ایک قوم کو اسی لفظ اور نام سے پکارنا چاہیے جو وہ اپنے لیے پسند کرتی ہے۔یہ لفظ چیلے کا ہندوئوں کے ساتھ مختص ہے۔