ساتھ یہی شرط دوستی رکھو کہوہ بدی سے بچیں۔
پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ سختی نہ کرو اور نرمی سے پیش آئو۔جنگ کرنا اس سلسلہ کے خلاف ہے۔نرمی سے کام لو اور اس سلسلہ کی سچائی کو اپنے پاک باطنی اور نیک چلنی سے ثابت کرو۔یہ میری نصیحت ہے اس کو یاد رکھو ۔اﷲ تعالیٰ تمہیں استقامت بخشے ۔آمین۔
۳؍نومبر ۱۹۰۴ء
سیالکوٹ سے واپسی پر بمقام وزیر آباد ریلوے اسٹیشن۔
ایک پادری سے گفتگو
وزیر آباد کے سٹیشن پر وہی ہجوم اور کثرتِ زائرین تھی جو پہلے تھی۔حافظ غلام رسول صاحب نے پھر لیمو نیڈ اور سوڈ اواٹر کی دعوت اپنے بھائیوں کودی۔
اس مرتبہ اس اسٹیشن پر ایک عجیب بات جو پیش آی وہ یہ تھی کہ ڈسکہ کا مشنری پادری سکاٹ صاحب حضرت اقدس سے آکر ملا۔پادری سکاٹ صاحب کے ساتھ ہمارے مکم بھائی سیخ عبد الحق صاحب نو مسلم کے بھی عیسائیت کے ایام میں دوستانہ تعلقات تھے۔پادری صاحب نے حضرت اقدس کے پاس آکر پہیل سلسلہ کلام شیخ عبد الحق ہی سے شروع کیا کہ آپ نے ہمارا ایک لڑکا لے لیا۔اس قسم کی بتیں ہو رہی تھیں۔جبکہ ہم نے پہنچ کر اس گفتگو کو قلمبند کرنا شروع کیا۔
پادری سکاٹ۔ آپ میں اور عیسوی مذہب میں کی اختلاف ہے؟
حضرت اقدس۔ موجودہ عیسوی مذہب اور ہم میں تو زمین و آسمان کا فرق ہے؛ البتہ حضرت مسیح علیہ السلام کی
اصل تعلیم اور مذہب اور ہمارے مذہب کے اصولوں میں اختلاف نہیں ہے۔وہ بھی خد اکی
پرستش کرتے اور اس کی توحید کا وعظ اور تبلیغ کرتے تھے۔اور دوسرے تمام نبی بھی یہی تعلیم لیکر
آئے تے۔
پادری سکاٹ۔ آپ لوگوں میں تو بہت سے فرقے موجود ہیں؟
حضرت اقدس۔ مجھے تعجب ہے کہ آپ اسلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ عیسائیوں