نفع رساں لوگ بنتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ ان کی عمریں بڑھا دیتا ہے۔یہ اﷲ تعالیٰ کے وعدے ہیں جو سچے ہیں اور کوئی ان کو جھٹلا نہیں سکتا۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے سچے اور فرمانبردار بندے ایسی بلائوں سے محفوظ رہتے ہیں۔پس اس بات کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے کہ نری بیعت اور اقرار سے کچھ نہیں بنتا،بلکہ انسان زیادہ ذمہ دار اور جوابدِ ہ ہوجاتا ہے۔اصل فائدہ کے لیے ضرورت ہے۔حقیقی ایمان اور پھر اُس ایمان کے موافق اعمالِ صالحہ کی۔جب انسان یہ خوبی اپنے اندر پیدا کرتا ہے تو جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ متقی حقیقی مومنن اور اس کے غیر میں ایک امتیاز رکھ دیا جاتا ہے۔اُسے ممتاز کیا جاتا ہے اور اس امتیار کا نام قرآنِ شریف کی اصطلاح میں فرقان ہے۔آخرت میں بھی مومن اسی فرقان سے شناخت کئے جائیں گے اور کافر۔فاسق ۔فاجر کے منہ سیاہ ہو جائیں گے۔اس دنیا میں بھی دیکھا جات اہے کہ مومن ہمیشہ ممتاز رہتا ہے۔اس کے اندر ایک سکینت اور اطمینان بخش روح ہوتی ہے؛ اگر چہ مومن کو دکھ بھی اُٹھانے پڑتے ہیں اور قسم قسم کے مصائب اور شدائد کے اندر سے گذرنا پڑتا ہے خواہ لوگ اس کے کتنے ہی بُرے نام رکھیں ار خواہ اس کے تباہ اور برباد کرنے کے لیے کچھ بھی ارادے کرین،لیکن آخروہ بچالیا جاتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اُسے عزیز رکھتا ہے۔اس لیے دنیا اس کو ہلاک نہیں کرسکتی۔مومن اور اس کے غیر میں امتیاز ضرور ہوتا ہے اور یہ میزان خد اتعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔خدا کی آنکھیں خوب دیکھتی ہیں کہ کون بد اور شریر ہے۔خد اکو کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا۔پس تم دنیا کی پروا نہ کرو۔بلکہ اپنے اندر کو صاف کرو۔یہ دھوکا مت کھائو کہ ظاہری رسم ہی کافی ہے۔نہیں ۔امن اس وکت آتا ہے جب انسان سچے طور سے خدا تعالیٰ کے حرم میں داخل ہو۔
پس اب بڑی تبدیلی کا وقت ہے اور خدا تعالیٰ سے سچی صلح کے دن ہیں۔بعض لوگ اپنیغلط فہمی اور شرارت سے اس سلسلہ کو بدنام کرنے کے لیے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں سے بھی بعض آدمی طاعون سے ہلاک ہوئے ہیں۔مین نے بار ہا اس اعتراض کا جواب دی اہے کہ یہ سلسلہ منہاج نبوت پر واقع ہوا ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں کفار پر جو عذاب آیا تھا وہ تلوار کا عذاب تھا۔حالانکہ وہ اُن کے لیے مخصوص تھ۔لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ صحابہؓ میں سے بعض شہید نہیں ہو گئے؟ اسی طرح پرر یہ سچ ہے کہ اس سلسلہ میں سے بھی بعض لوگ طاعون سے شہید ہوئے ہیں مگر یہ بھی تو دیکھو کہ طاعون کے ذریعہ سے ہمارا نقصان ہوا ہے یا دوسروں کا؟ہماری جماعت کی تو ترقی ہوتی گئی اورہو رہی ہے اور میں پھر کہتا ہوں کہ جو لوگ نافع الناس ہیں اور ایمان ،صدق و وفا میں کامل ہیں وہ یقینا بچا لیے جاویں گے۔پس تم اپنے اندر یہ خوبیاں پید اکرو۔اپنے رشتہ داروں اور بیوی بچوں کو بیھ سمجھائو اور یہی تلقین کرو اور دوستوں کے