اور اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری مٰن اپنی زندگی بسر کرے۔ اب بے فکر رہنے کے دن نہیں ہیں۔خدا تعالی کا تازیانہ ہوشیار کر رہا ہے۔تم کو خوب معلوم ہے کہ طاعون نے اس ملک کو کیسا تباہ کیا ہے اور کس طرح پر فنا کا تصرف جاری ہے۔اور ثابت ہو رہا ہے کہ دنیا فانی ہے۔اب بھی اگر انسن اپنے اعمال کو درست نہ کرے تو یہ اسکی کیسی غفلت اور بدنصیبی ہے۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم ہرگز ہرگز بے فکر نہ ہو۔خدا تعالیٰ کے عذاب کا کچھ پتہ نہیں ہتوا کہ وہ کس وقت آجاوے اور وہ غافلوں کو ہلاک کر دیتاہے جو دنیا میںمست ہو جاتے ہیں ار خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بیباک اور شوخی اختیار کرتے ہیں۔تم جانتے ہو کہ طاعون کے دن آئے ہیں اور معلوم نہیں کہ کون اس کے حملہ سے بچے ۔ہاں اس قدر میں کہتا ہوں کہ خد اتعالیٰ ان لوگں کو اپنے فضل و کرم سے محفوظ رکھتا ہے جو اپنے اندر سچی تبدیلی کر لیتے ہیں اور کسی قسم کا کھوٹ اور کجی دل میں باکٰ نہیں رکھتے۔بسا اوقات جن شہروں میں طاعون پڑی ہے ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی جبتک تباہ نہیں کر لیتی اور یہ بھی ثابت ہوا ہے کہا س کے دورے بڑے بڑے لمبے ہوتے ہیں۔مجھ پر خدا تعالیٰ نے ایسا ہی ظاہر کیا ہے اور خدا تعالیٰ کی کتابوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہیہ شامت اعمال سے آتی ہے۔میں اس وکت دیکھتا ہں کہ دنیا میں غفلت حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔شوخی اور بے باکی خدا تعالیٰ کی کتابوں اور باتوں سے بہت ہو گئی ہے۔دنیا ہی دنیا لوگوں کا مقصود اور معبود ٹھہر گئی ہے۔اس لیے جیسا کہ پہلے سے کہا گیا تھا اور نبیوں کی معرفت وعدہ دیا گیا تھا۔میرے اس زمانہ میں یہ طاعون لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے آئی ہے مگر افسوس ہے لوگ اس کو ابتک بھی ایک معمولی بیماری سمجھتے ہیں۔مگر مین تمہیں کہتا ہوں کہ تم ان لوگوں کے ساتھ مت ملو بلکہ تم اپنے اعمال اور افعال سے ثابت کرکے دکھادو کہ واقعی تم نے سچی تبدیلی کر لی ہے۔تمہاری مجلسوں میں وہی ہنسی اور ٹھٹھا نہ ہو جو دوسرے لوگوں کی مجلسوں اور محفلوں میں پایا جاتا ہے۔یقیناً سمجھو کہ زمین و آسمان کا خالق ایک خدا ہے۔وہی خدا ہے جس کے قبضۂ قدرت میں زندگی اور موت ہے۔کوئی شخص دنیا میں کس ی قسم کی راحت اور کوئی نعمت حاصل نہیں کرسکتا مگر اسی کے فضل و کرم سے ۔ایک پتہ بھی اس کے فضل کے بغیر ہرا نہیں رہ سکتا۔اس لیے ہر وقت اسی سے سچا تعلق پیدا کرے اور ا س کی رضا جوئی کی راہوں پر مضبوط قدر رکھے۔اگر وہ اس بات کی پابندی کرے گا تو یقینا اُسے کوئی غم نہیں ہے۔ہر قسم کی راحت، صحت،عمر و دولت یہ سب اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہے۔جب انسنا کا وجود ایسا نافع اور سود مند ہو تو اﷲ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا۔جیسے باغ میں کوئی درخت عمدہ پھل دینے والا ہو توا سے باغبان کاٹ نہیں ڈالتا بلکہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔اسی طرح نافع اور مفید وجود کو اﷲ تعالیٰ بھی محفوظ رکھتاہے جیسا کہ اس نے فرمایا ہے۔ واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض (الرعد : ۱۸) جو لوگ دنیا کے لیے