اور نجات کا بھی یہی گُر اور اصول ہے۔انسان کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرنے سے تھکے نہیں نہ درماندہ ہو اور نہ اس راہ میں کوئی کمزوری ظاہر کرے۔
تم لوگوں نے اس وکت خدا تعالیٰ کے حضور میرے ہاتھ پر انے گناہ٭ں سے توبہ کی ہے۔ایسا نہ ہو کہ یہ توبہ تمہارے لیے باعثِ برکت ہنے کی بجائے لعنت کا موجب ہو جاوے۔کیونکہ اگر تم لوگ مجھے شناخت کر کے بھی اور خدا تعالیٰ سے اقرار کر کے بھی اس عہد کو توڑتے ہو تو پھر تم کو دوہرا عذاب ہے کیونکہ عمداً تم نے معاہدہ کو توڑا ہے۔دنیا میں جب کوئی شخص کسی سے عہد کرکے اُسے توڑتا ہے تو اس کو کس قدر ذلیل اور شسرمندہ ہونا پڑتا ہے۔وہ سب کی نظروں سے گر جاتا ہے۔پھر جو شخص خد اتعالیٰ سے عہد اور اقرار کرکے توڑے وہکس قدر عذاب اور لعنت کا مستحق ہوگا۔
پس جہانتک تم سے ہوسکتا ہے۔اس اقرار ارو عہد کی رعایت کرو۔اور ہر قسم کے گناہوں سے بچتے رہو۔پھر اس اقرار پر قائم اور مضبوط رہنے کے واسطے اﷲ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہو۔وہ یقیناً تمہیں تسلی اور اطمینان دے گا ارو تمہیں ثابت قدم کرے گا،کیونکہ جو شخص سچے دل سے خدا تعالیٰ سے مانگتا ہے اُسے دیا اجتا ہے۔میں جانتا ہوں کہ تم میں سے بعض ایسے بھی ہوں گے جن کو میرے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے واسطے قسم قسم کے ابتلا ء اور مشکلات پیش آئیں گے،لیکن میں کیا کروں یہ ابتکلاء نئے ہیں۔جب خدا تعالیٰ کسی کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور کوئی اس کی طرف جاتا ہے تو اس کے واسطے ضرور ہیکہ ابتلاء٭ن مٰن سے ہوکر گذرے۔دنیا اور اس کے رشتے عارضی اور فانی ہیں مگر خدا تعالیٰ کے ساتھ تو ہمیشہ کے لیے معاملہ پڑتا ہے پھر اس سے آدمی کیوں بگاڑے؟ دیکھو صحابہؓ کو کچھ تھوڑے ابتلاء پیش آئے تھے۔ان کو اپنا وطن،مال و دولت،اپنے عزیز رشتہ دار سب چھوڑنے پڑے۔لیکن اُنہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں ان چیزوں کو مری ہوئی مکھی کے برابر بھی نہیں سمجھا۔خدا تعالیٰ کو انے لیے کافی سمجھا۔پر خدا نے بھی ان کی کس قدر قدر کی۔اس سے وہ خسارہ میں نہیں رہے بلکہ دنیاوآخرت میں انہوں نے وہ فائدہ پایا جو اس کے بغیر انہیں مل سکتا ہی نہیں تھا۔اس لیے اگر کوئی ابتلاء آوے تو گھبرانا نہیں چاہیے۔ابتلاء مومن کے ایمان کو مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ ہوتا ہیکیونکہ اس وقت روح یں عجزونیاز اور دل مین ایک سوزش اور جلن پیدا ہوتی ہے جس سے وہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کے آستانہ پر پانی کی طرح گداز ہو کر بہتا ہے۔ایمانِ کامل کا مزا ہمّ و غم ہی کے ندوں میں آتا ہے۔اس وقت اپنے اعمال کی اصلاح کی فکر کرو۔خدا تعالیٰ سے اب تمہارا نیا معاملہ شروع ہوا یکیونکہ وہ پچلے گناہ سچی توبہ کے بعد بخش دیتا ہے اور توبہ سے یہ مراد نہیں کہ انسان زبان سے یہ کہہ دے اور اعمال میں اس کا اثر ظاہر نہ ہو۔نہین۔توبہ یہی ہے کہ بدی٭ن او خدا کی نافرمانیوں کو قطاعً چھوڑدے اورنیکیاں کرے