دانہ کھانے کا اس کو موت سے بچالے گا؟ ہرگز نہیں۔جس طرح اس بدن کو بچانے کے واسطے کافی خوراک اور کافی پانی بہم پہنچانے کے سوائے مفر نہیں۔اسی طرح پورے جہنم سے تھوڑی سی نیکی سے تم بھی بچ نہیں سکتے۔پس اس دھوکہ میں نہ رہو کہ ہم نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا ہے اب ہمیں کیا غم ہے۔ہدایت بھی ایک موت ہے۔جو شخص یہ موت اپنے اُوپر وار کرتا ہے اس کو پھر نئی زندگی دی جاتی ہیاور یہی اصفیاء کا اعتقاد ہے۔اﷲ تعالیٰ نے بھی اسی ابتدائی حالت کے واسطے فرمایا ۔
یایھا الذین امنو ا علیکم انفسکم (المائدۃ : ۱۰۶)
یعنی پہلے اپنے آپ کو درست کرو۔اپنے امراض کو دور کرو۔دوسروں کا فکر مت کرو۔ہان رات کو اپنے آپ کو درست کرو۔اور دن کو دوسروں کوب ھی ہدایت کر دیا کرو۔خدا تعالیٰ تمہیں بخشے اور تمہارے گناہ٭نسے تمہیں مخلصی دے اور تمہاری کمزوریوں کو تم سے دور کرے اور اعمال صالحہ اور نیکی میں تقی کرنے کی توفیق دیوے ؎ٰأآمین۔
۲؍نومبر ۱۹۰۴ء
بمقام سیالکوٹ
بیعت کی غرض
اس بیعت کی اصل غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں ذوق وشوق پید اہو اور گناہوں سے نفڑت پید اہو کر اس کی جگہ نیکیاں پیدا ہوں۔جو شخص اس غرض کو ملحوظ نہیں رکھتا اور بیعت کرنے کے بعد اپنے اندر کوئی تبدیلی کرنے کے لیے مجاہدہ اور کوشش نہیں کرتا جو کوشش کا حق ہے اور پھر اس قدر دعا نہیں کرتا جو دعا کرنے کا حق ہے تو وہ اس اقرار کی جو خدا تعالیٰ کے حضور کیا جاتا ہے سخت بے حرمتی کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ گنہگار اور قابل سزا ٹھہرتا ہے۔پس یہ ہرگز نہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ بیعت کا اقرار ہی ہمارے لیے کافی ہے اور ہمیں کوشش نہیں کرنی چاہیے۔مثل مشہور ہے جو ئندہ یا بندہ جو شخص دروازہ کھٹکٹھاتا ہے اس کے لیے کھول جاتا ہے اور قرآن شریف میں بھی فرمایا گیا ہے۔
والذین جاھدو افینا لنھدینہم سبلنا (العنکبوت : ۷۰)
یعنی جو لوگ ہماری طرف آتے ہیں اور ہمارے لیے مجاہدہ کرتے ہیں۔ہم اُن کے واسطے انی راہ کھول دیتے ہیں ارو صراطِ مستقیم پر چلا دیتے ہیں۔لیکن جو شخص کوشش ہی نہیں کرتا وہ کس طرح اس راہ کو پاسکتاہے ۲؎۔
خدایا بی اور حقیقی کامیابی