ہیں جن کو کچھ مناسبت ہوتی ہے۔مثلاً انجن سرد ہے تو فائدہ نہیں دے سکتا۔اگر خوب گرم ہے تو سو گاڑی بھی لے جاوے گا۔پس گرم اور پراثیر مومن بنو۔اس ہماری جماعت کے واسطے خدا کا وعدہ ہیکہ دنیا میں پھیلے گی۔پھر اگر طاقت والے اور اس کے پھیلانے والے اور لوگ ہوں گے تو تم نے کیا حاصل کیا؟
اب سوال یہ ہوگا کہ طاقت کس طرح پید اہوتی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ صادق اور پکّا بندہ بن جاوے تاکہ کسی زلزلہ سے برگشتہ اور منہ پھیرنے والا نہ ہو۔صحابہ کرامؓ سارے ہی ابخدا اور عاقل تھے مگر آنحضرت ﷺ اُن سے بڑھ کر ایسے وفادار تھا کہ کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا تھا۔اسی لیے آپ کو سانپوں اور درندوں اور خاردار کانٹوں والا جنگل اس کے درندے،حیوانات انسانی شکل میں دکھلائے گئے۔پھر ملک بھی ایسا اس کے سپرد کیا کہ جس سے بڑھ کر دنیا مٰن کوئی شریر النفس نہ تھا۔پھر آئے ایسے وقت پر کہ تمام مردہ اور فساد کی جڑھ تھے۔ جیسے فرمایا
ظھر الفساد فی البر والبحر (الروم : ۴۲)
اور گئے ایسے وقت پر کہ فرمایا
الیوم اکملت لکن دینکم واتممت علیکم نعمتی (المائدہ : ۴)
الآیتہ
اذا جاء نصر اﷲ والفتح (النصر : ۲)
اس کو معجزہ کہتے ہیں اور اس سے معلوم ہوتاہے کہ کتنی محبت الٰہی اور قوت جاذبہ آنحضرت ﷺ کے اندر تھی۔پس خد اتعالیٰ کے خاص بندوں اور غیروں میں اتنا فرق ہوتاہے کہ قوتِ ایمانی اور اتقامت ایسی ہو ۔کہکسی رکاوٹ شدید سے باز نہ رہے۔اس صفت سے جس کو جتنا حصہ ملا ہے اتنا ہی وہ برکت کا موجب ہوگا۔میرا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی تبدیلی کے واسطے تین باتیں یاد رکھو:
(۱) نفسِ امارہ کے مقابل پر تدابیر اور جدوجہد سے کام لو۔ (۲) دعائوں سے کام لو۔ (۳) سست اور کاہل نہ بنو اور تھکو نہیں۔
ہماری جماعت بھی اگر بیج کا بیج ہی رہے گی تو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔جو ردی رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کو بڑھاتا نہیں۔پس تقویٰ ،عبادت اور ایمانی حالت میں ترقی کرو۔اگر کوئی شخص مجھے دجال اور کافر وغیرہ ناموں سے پکارت ہے تو تم اس بات کی کچھ پروا بھی نہ کرو۔کیونکہ جب خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے تو مجھے ان کے ایسے بدکلمات اور گالی٭ن کا کیا ڈر ہے۔فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ کو کافر کہا تھا۔ایک زمانہ ایسا آگیا کہ پکار اُٹھا کہ میں اس خدا پر ایمان لایا جس پر موسیٰ اور اس کے متبع ایمان لائے ہیں۔ایسے لوگ یاد رکھو کہ مخنّث اور نامرد ہوتے ہیں۔یہ تو ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے ایک بچہ بعض اوقات اپنی ماں اور باپ کو بھی نا سمجھی وج سے گالی دے دیتا ہے،مگر اس کے اس فعل کو کوئی برا نہیں سمجھتا۔
پس یاد رکھو کہ نری بیعت اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا کچھ بھی سود مند نہیں۔جب کوئی شخص شدت پیاس سے مرنے کے قریب ہو جاوے یا شدت بھوک سے مرنے تک پہنچ جاوے تو کیا اس وقت ایک قطرہ پانی یا ایک