میں درج ہیں قرآن کریم کو مقدم رکھیں ۔پس ہم تو قرآن کریم کو ترجیح دیں گے اور جو احادیث قوی اور صحیح ہیں وہ ضرور قرآن کے ساتھ ہیں اور ہمارے دعویٰ میں ہماری مؤید ہیں۔پس ہمارا اور ان لوگوں کا اور کوئی اختلاف نہیں۔بجز اس کے کہ یہ پوست پر قناعت کرتے ہیں اور ہم مغز کو چاہتے ہیں۔مسیح کی موت کا قرآن نے خود فلما توفیتنی میں فیصلہ کر دیا ہے۔اگر ہم قبول کر لیں کہ مسیح ناصری آجتک زندہ ہے تو ہمیں یہ بھی قبول کرنا پڑیگا کہ عیسائی بھی آجتک راہ راست پر ہیں۔اور اس کی قرآن کریم خود تردید کرتا ہے۔
تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ھداان دعواللرحمن
ولدا (مریم : ۹۱،۹۲)
مجھے میرے خدا نے ہزار ہا وحیوں میں مامور کیا ہے اور وہ ہی بات ہے جو تیرہ سو برس پہلے سے لکھی ہوئی تھی۔ہمارا اور ان کا کوئی جھگڑا نہیں اگر شرم و حیا اور ایمان ہو۔یہ بھی نہ سہی۔کیا آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں کل لوگ مسلمان ہو گئے تھے۔نہیں مگر وہی کہ جن کے حق میں سعادت تھی۔پس ہمارا کام تو سمجھانا ہے۔پس جو شخص مسیح کو زندہ مانتا ہے وہ جھوٹا ہے اور خدا کا منکر ہے اور جس کو خد انے مامور کیا ہے اس کو تو تازہ علم ا سکی وفات کا دیا ہے۔پھر اگر اُنہوں نے مسیح کو ماننا تھا تو وہ حکم کس بات کا ہوگا اور ہر ایک مذہب والا اس کا فیصلہ کس طرح مانے گا۔حکم کا لفظ تو صاف دلالت کر رہا ہے کہ ضرور ان لوگوں میں اختلاف اور اغلاط ہوں گے جن کا وہ اآکر فیصلہ کرے گا۔پس ہم تو تم سے سچا اتباعِ نبی کریم اور ترک اغلاط کرتے ہیں اور بس۔
مخالفین سے نرمی کا سلوک ہونا چاہیے
پس ہمارے لوگ مخالفین سے سختی سے پیش نہ آیا کریں۔ان کا درشتی کا نرمی سے جواب دیں۔ اور ملاطفت سے سلوک کریں۔چونکہ یہ خیالات مدت مدید سے ان کے دلوں میں ہین رفتہ رفتہ ہین دور ہونگے اس لیے نرمی سے کام لیں۔اگر وہ سخت مخالفت کریں ،تو اعراض کریں۔مگر اس بت کے لیے اپنے اندر قوت جاذبہ پید اکرو۔اور قوتِ جاذبہ اس وقت پید ہوگی جب تم صادق مومن بنوگے اور اگر تم صادق نہیں تو تمہاری نصیحت ایسی ہے جیسے پر نالہ کا پانی موجب فساد ہوتا ہے۔پس صادق کے واسطے ورزش کی اشد ضرورت ہے۔جیسے ایک پہلوان کے سامنے تمہاری کیا ہستی ہے کہ مقبلہ کر سکو اگر چہ وہ بیھ تمہارے جیسا آدمی تھا۔جسمانی نشونما میں اس نے ترقی کی اور ورزش کر کے یہ طاقت حاصل کی۔پس تم روحانی قویٰ میں ورزش کرکے روحانی پہلوان یعنی صادق مومن بنو۔جو شخص اپنا نشونما نہیں کرتا وہ تو اپنے کنبہ کو بھی درست نہیں کر سکتا۔پس قوتِ روحانی پیدا کرو۔دیکھو نبی،رسول سب ایک ایک ہو کر ہی آئے ہیں مگر وہ صادق اور جاذب تھے۔مال کی غریبی او رکمزوری جدا چیز ہے۔
روحانی قوت کی ضرورت
روحانی قوت ہونی چاہیے۔ہاں کشش میں بھی وہی سعادت مند ہوتے